سیکشن 7 مسلم فیملی لاز: طلاق نوٹس اور نادرا طلاق سرٹیفکیٹ

1. فوری خلاصہ: طلاق نوٹس اور نادرا سرٹیفکیٹ
پاکستانی قانون کے تحت زبانی طلاق سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ دفعہ 7 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت شوہر پر لازم ہے کہ وہ طلاق کے بعد یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس بھیجے اور نقل اہلیہ کو ارسال کرے۔ نوٹس موصول ہونے پر 90 دن کی مصالحتی مدت شروع ہوتی ہے جس میں ثالثی کونسل صلح کی کوشش کرتی ہے۔ صلح نہ ہونے پر چیئرمین مؤثر طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے جس سے نادرا کمپیوٹرائزڈ طلاق رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے۔2. قانون کیا کہتا ہے: دفعہ 7 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961
پاکستان میں طلاق کا قانونی نظام مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 (MFLO 1961) کے تابع ہے۔ دفعہ 7 ذیلی دفعہ (1) کے مطابق شوہر کسی بھی صورت میں طلاق دینے کے بعد فوری طور پر متعلقہ یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس دے گا اور اس کی نقل اہلیہ کو بھیجے گا۔دفعہ 7(3) کی رو سے طلاق اس وقت تک قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی جب تک چیئرمین کو نوٹس ملنے سے 90 دن کی مدت نہ گزر جائے، الا یہ کہ اہلیہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک طلاق معلق رہے گی۔ نوٹس نہ دینا دفعہ 7(2) کے تحت قابلِ سزا جرم ہے جس کی سزا ایک سال قید یا جرمانہ [VERIFY: KPK position] ہے۔دفعہ 8 کے تحت اگر بیوی کو نکاح نامے کے کالم 18 میں طلاقِ تفویض کا حق حاصل ہو، یا علیحدگی مبارات سے ہو، تب بھی یہی دفعہ 7 لاگو ہوگی۔ علاقائی اختیار رول 3(b) کے تحت اس کونسل کا ہے جہاں اہلیہ رہائش پذیر ہو، یا بیرون ملک مقیم ہونے پر جہاں وہ آخری بار پاکستان میں شوہر کے ساتھ رہی تھی۔3. مرحلہ وار طریقہ کار: نوٹس سے نادرا سرٹیفکیٹ تک
قانونی طلاق کے اندراج کا عمل درج ذیل 5 مراحل میں مکمل ہوتا ہے:- طلاق نامہ کی تحریر (پہلا تا تیسرا دن): شوہر اسٹامپ پیپر پر طلاق نامہ تحریر کروا کر دو گواہان اور اوتھ کمشنر سے تصدیق کرواتا ہے۔
- چیئرمین اور اہلیہ کو نوٹس کی ترسیل (تیسرا تا ساتواں دن): تحریری نوٹس چیئرمین کو جمع ہوتا ہے اور اہلیہ کو پاکستان پوسٹ رجسٹری اے ڈی کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔
- ثالثی کونسل کی تشکیل (ساتواں تا تیسواں دن): دفعہ 7(4) کے تحت چیئرمین 30 دن میں ثالثی کونسل قائم کر کے دونوں فریقین سے نمائندے طلب کرتا ہے۔
- مصالحتی میٹنگز اور 90 دن کی میعاد (تیسواں تا نواں دن): ثالثی کونسل صلح کی کوشش کرتی ہے۔ صلح یا رجوع نہ ہونے کی صورت میں 90 دن کا قانونی وقت مکمل ہونا ضروری ہے۔
- مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ اور نادرا اجرا (نواں تا ایک سو پانچواں دن): 90 دن مکمل ہونے پر چیئرمین مؤثر طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے، جس کی بنیاد پر نادرا سے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے۔
4. ضروری دستاویزی فائل
یونین کونسل میں کارروائی کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہیں:- اصل طلاق نامہ: اسٹامپ پیپر پر گواہان اور اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ طلاق نامہ۔
- نکاح نامہ اور نادرا سرٹیفکیٹ: نکاح نامہ اور نادرا میرج سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں۔
- شناختی کارڈز کی نقول: شوہر اور اہلیہ کے شناختی کارڈز (یا اہلیہ کے کارڈ کا بیان حلفی)۔
- ڈاک کی رجسٹری رسیدات: اہلیہ کو نوٹس ترسیل کی پاکستان پوسٹ کی رجسٹری رسیدات۔
- نمائندے کی نامزدگی: ثالثی کونسل میں شرکت کے لیے نامزد نمائندے کی تحریری سند۔
- مختار نامہ خاص: اوورسیز افراد کے لیے سفارت خانے اور دفتر خارجہ سے تصدیق شدہ مختار نامہ۔
5. اعلیٰ عدالتوں کے رہنما فیصلے
اعلیٰ عدلیہ نے دفعہ 7 کے تحت درج ذیل قانونی اصول طے کیے ہیں:- سید علی نواز گردیزی بنام محمد یوسف (PLD 1963 SC 51): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی طلاق سے نکاح ختم نہیں ہوتا؛ چیئرمین کو نوٹس اور 90 دن کا عمل لازمی ہے۔
- مسماۃ کنیز فاطمہ بنام ولی محمد (PLD 1993 SC 901): سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نوٹس نہ ہونے پر ریاست طلاق تسلیم نہیں کرتی اور بیوی کا نان نفقہ و وراثت برقرار رہتی ہے۔
- مسماۃ رشیدہ بیگم بنام چیئرمین یونین کونسل (PLD 2007 SC 583): عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ چیئرمین کے پاس طلاق کی شرعی صحت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، 90 دن بعد سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازم ہے۔
- محمد نصیر بنام چیئرمین یونین کونسل (2020 CLC 1782 پشاور): پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چیئرمین سرٹیفکیٹ نہیں روک سکتا، انکار پر ہائی کورٹ رٹ پٹیشن سے حکم جاری کرتی ہے۔
6. سوات، خیبر پختونخوا اور اوورسیز پاکستانی
خیبر پختونخوا میں چیئرمین کے اختیارات ویلج اور نیبرہڈ کونسل کے سیکرٹریز کے پاس ہیں۔ سوات، مینگورہ اور ملاکنڈ میں سیکرٹری کے غیر قانونی انکار پر پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ (دارالقضاء سوات) میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن کے ذریعے فوری داد رسی حاصل کی جا سکتی ہے۔یو اے ای، برطانیہ اور سعودی عرب کے اوورسیز پاکستانی سفارت خانے سے مختار نامہ خاص تصدیق کروا کر سوات میں اپنے وکیل کو مقرر کر سکتے ہیں جو نوٹس جمع کروانے اور نادرا طلاق سرٹیفکیٹ کے حصول کی تمام قانونی کارروائی انجام دیتا ہے۔7. تقابلی جائزہ جدول
| قانونی چارہ جوئی | مجاز فورم | قانونی میعاد | سرکاری فیس | تخمینہ وقت |
|---|---|---|---|---|
| طلاق نوٹس (دفعہ 7) | چیئرمین یونین کونسل | وصولی سے 90 دن | معمولی کونسل فیس [VERIFY: KPK position] | 90 تا 120 دن |
| دعویٰ خلع بذریعہ بیوی | جج فیملی کورٹ | کوئی میعاد نہیں | معمولی کورٹ فیس (15 تا 50 روپے) | 3 تا 6 ماہ |
| طلاقِ تفویض (اختیارِ بیوی) | چیئرمین کونسل | وصولی سے 90 دن | معمولی پروسیسنگ فیس | 90 تا 110 دن |
| رٹ برائے سرٹیفکیٹ | دارالقضاء سوات | 90 دن بعد | ہائی کورٹ رٹ فیس [VERIFY: KPK rules] | 2 تا 8 ہفتے |
8. عام پوچھے جانے والے سوالات
کیا زبانی طلاق دینے سے پاکستان کے قانون میں نکاح ختم ہو جاتا ہے؟
نہیں، زبانی طلاق سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ دفعہ 7 کے تحت چیئرمین کو تحریری نوٹس دینا اور 90 دن کی مصالحتی مدت مکمل ہونا لازمی قانونی شرط ہے جس کے بغیر نکاح قائم رہتا ہے۔
اگر شوہر یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس نہ بھیجے تو کیا ہوگا؟
نوٹس نہ بھیجنا قابلِ سزا جرم ہے جس کی سزا ایک سال قید یا جرمانہ ہے۔ نادرا ریکارڈ میں نکاح قائم رہتا ہے اور شوہر دوسری شادی پر دہرے نکاح کے مقدمے کی زد میں آ سکتا ہے۔
دفعہ 7 کے تحت 90 دن کا حساب کس تاریخ سے شروع ہوتا ہے؟
90 دن کی میعاد کا آغاز چیئرمین کو نوٹس موصول ہونے کی تاریخ سے ہوتا ہے۔ طلاق کے زبانی تلفظ کی تاریخ سے اس کا شمار نہیں ہوتا۔ حاملہ ہونے پر مدت وضع حمل تک ہے۔
کیا اوورسیز پاکستانی بیرون ملک سے نادرا طلاق سرٹیفکیٹ لے سکتے ہیں؟
جی ہاں، بیرون ملک مقیم افراد سفارت خانے سے مختار نامہ خاص تصدیق کروا کر پاکستان میں وکیل کے ذریعے ثالثی کونسل کی کارروائی اور نادرا طلاق سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر چیئرمین مؤثر طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے تو کیا کریں؟
90 دن بعد سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر سائل پشاور ہائی کورٹ یا دارالقضاء سوات میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر کے چیئرمین کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم لے سکتا ہے۔
فیملی لاء چیمبرز سوات سے قانونی مشاورت حاصل کریں
طلاق نوٹس، نادرا سرٹیفکیٹ یا دارالقضاء سوات میں فیملی رٹ پٹیشن کے لیے انٹرنیشنل لاء فرم کے تجربہ کار وکلاء سے رہنمائی حاصل کریں۔
قانونی دستبرداری: یہ مضمون عوامی معلومات کے لیے ہے، باقاعدہ قانونی مشاورت نہیں۔ جائزہ از سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، انٹرنیشنل لاء فرم، سوات، نومبر 2026ء۔
