وکلاء سپریم کورٹ و پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات) · اوورسیز لیگل ایڈ ڈیسک برائے متحدہ عرب امارات، برطانیہ و خلیجی ممالک
صفحہ اول قانونی بلاگ و مضامین رابطہ و چیمبرز
+92 348 0880003
Civil Law

دعویٰ تقسیمِ جائیدادِ غیر منقولہ مشترکہ اور ترکہ وراثت: پارٹیشن ایکٹ 1893، مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908، ریونیو حد براری اور سپریم کورٹ کے مستند عدالتی نظائر

iladmin
Suit for partition of immovable property in Pakistan legal desk with Aks Shajra and Partition Act 1893

1. تعارفی خلاصہ و مشترکہ ملکیت کا فلسفہ (Executive Summary & Jurisprudential Foundations)

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام میں غیر منقولہ جائیداد، اراضی، اور رہائشی و تجارتی املاک کا تحفظ نہ صرف شہریوں کے معاشی وقار کا ضامن ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ایک بنیادی آئینی حق ہے۔ اسلامی شریعت اور پاکستانی دیوانی قوانین کے مطابق مورثِ اعلیٰ کے انتقال کے فوری بعد اس کا چھوڑا ہوا کل ترکہ (متروکہ جائیداد) خودکار طریقے سے تمام شرعی ورثاء میں بحیثیت شریک کھاتہ داران (Co-sharers / Tenants-in-common) منتقل ہو جاتا ہے۔ قانون میں ترکے کو کسی تعطل یا خلا میں رکھنے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ہر وارث جائیداد کے ہر ایک انچ، مربع فٹ اور خسرہ میں اپنے شرعی اور حسابی حصے کے تناسب سے غیر منقسم ملکیت کا حق دار بن جاتا ہے۔

تاہم عملی زندگی میں مشترکہ غیر منقسم جائیداد شدید خاندانی تنازعات، معاشی تناؤ اور ناانصافی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ اکثر اوقات طاقتور یا قابض ورثاء سامنے کی قیمتی تجارتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ جما لیتے ہیں، زرعی زمین کی آمدن سے دیگر ورثاء کو محروم کر دیتے ہیں، یا پھر بوگس دستاویزات اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے کمزور ورثاء، بالخصوص خواتین اور تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانیوں) کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قانون کا یہ مسلمہ اور آفاقی اصول ہے کہ کسی بھی شریک کھاتہ دار کو اس کی مرضی کے خلاف ہمیشہ کے لیے مشترکہ ملکیت کے عذاب میں مبتلا نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی قانونی و اخلاقی ضرورت کے تحت دعویٰ تقسیمِ جائیدادِ غیر منقولہ (Suit for Partition of Immovable Property) کا دروازہ کھولا گیا ہے۔

دعویٰ تقسیم دراصل عدالتِ مجاز کے ذریعے غیر منقسم مشترکہ کھاتے کو باضابطہ قانونی طور پر تحلیل کر کے ہر حصہ دار کے حسابی حصے کو زمینی طور پر الگ، متعین اور خود مختار بنانے کا نام ہے۔ اس کارروائی کے ذریعے پٹوار کے رجسٹر حقدارانِ زمین (جمع بندی) یا شہری رجسٹرڈ دستاویزات میں درج تجریدی حصص کو زمین پر باقاعدہ باؤنڈری وال، کھُرے (Lots) اور علیحدہ عکس شجرہ کے ساتھ مستقل طور پر الگ کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تقسیمِ جائیداد دو مختلف قانونی دائرہ اختیارات کے تحت منظم ہے: شہری اور رہائشی جائیدادوں کے لیے پارٹیشن ایکٹ 1893 (Partition Act 1893) مع مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908 (Civil Procedure Code 1908)، جبکہ خالصتاً زرعی اراضی کے لیے ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 (West Pakistan Land Revenue Act 1967)۔

تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانیوں) کے لیے، جو متحدہ عرب امارات (دبئی، ابوظہبی)، سعودی عرب، برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں مقیم ہیں، آبائی جائیداد کی تقسیم کا حصول ایک سنگین چیلنج ہوتا ہے کیونکہ مقامی طور پر قابض رشتہ دار زبانی تقسیم کے بوگس دعوے کر کے مقدمہ بازی کو طول دیتے ہیں۔ اس مفصل مقالے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے مستند عدالتی نظائر کی روشنی میں دعویٰ تقسیم، ابتدائی و حتمی ڈگری، مقامی کمیشن کے فرائض، عدالتی نیلامی اور قانونی دفاع کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

2. بنیادی قانونی و ضابطہ جاتی ڈھانچہ (Statutory Architecture & Legal Framework)

پاکستان میں تقسیمِ جائیداد کا قانون ایک واحد مجموعہ قوانین تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق دیوانی ضابطے، مخصوص پارٹیشن ایکٹ اور صوبائی ریونیو قوانین کے اشتراک سے ہوتا ہے۔ سب سے بنیادی امر یہ سمجھنا ہے کہ کس قسم کی جائیداد کے لیے کس عدالتی فورم سے رجوع کیا جائے گا:

الف: مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908 (آرڈر 20 رول 18 و دفعہ 54)

دیوانی عدالت میں تقسیم کے مقدمات کی ضابطہ جاتی بنیاد مجموعہ ضابطہ دیوانی کے آرڈر 20 رول 18 پر استوار ہے۔ یہ قانون جائیداد کی نوعیت کے لحاظ سے دو واضح تقسیمات قائم کرتا ہے:

  • آرڈر 20 رول 18 ذیلی رول (1) مع دفعہ 54 ضابطہ دیوانی: اگر جائیداد خالصتاً زرعی اراضی پر مشتمل ہو جو حکومت کو مالیہ (Land Revenue) ادا کرتی ہے، تو دیوانی عدالت کا دائرہ اختیار صرف ابتدائی ڈگری (Preliminary Decree) صادر کرنے تک محدود ہوتا ہے جس میں فریقین کے حقوق اور حصص کا قانونی اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین کی عملی حد براری، پیمائش اور قبضہ دلانے کی کارروائی دفعہ 54 کے تحت ڈسٹرکٹ کلیکٹر (ڈپٹی کمشنر / اسسٹنٹ کلیکٹر) کے سپرد کر دی جاتی ہے جو ریونیو قوانین کے تحت تقسیم مکمل کرتا ہے۔
  • آرڈر 20 رول 18 ذیلی رول (2) ضابطہ دیوانی: اگر جائیداد شہری حدود میں واقع ہو، رہائشی مکان، تجارتی پلازہ، فیکٹری، یا منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا پلاٹ ہو، تو دیوانی عدالت کو مقدمے کے آغاز سے لے کر حتمی ڈگری اور نفاذ تک مکمل، بلا شرکت غیرے دائرہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔ دیوانی عدالت ابتدائی ڈگری صادر کرتی ہے، آرڈر 26 رول 13 کے تحت مقامی کمیشن (Local Commissioner) مقرر کرتی ہے، کھُرہ بندی (Lotting) کی منظوری دیتی ہے، اور حتمی ڈگری (Final Decree) جاری کر کے فزیکل قبضہ دلاتی ہے۔

ب: پارٹیشن ایکٹ 1893 (ایکٹ چہارم مجریہ 1893)

جب کوئی جائیداد ایسی ہو جسے زمینی طور پر تقسیم کرنا ناممکن ہو—مثلاً ایک مختصر رہائشی مکان یا دکان جس کے ٹکڑے کرنے سے اس کی قدر و قیمت تباہ ہو جائے—تو پارٹیشن ایکٹ 1893 دیوانی عدالت کو مندرجہ ذیل خصوصی اور بے مثل اختیارات تفویض کرتا ہے:

  • دفعہ 2 (تقسیم کی بجائے عدالتی فروخت کا حکم): اگر جائیداد کی نوعیت یا حصہ داران کی کثیر تعداد کے باعث زمین کی طبعی تقسیم ناممکن یا شدید غیر مناسب ہو، اور کم از کم 50 فیصد حصص کے مالکان عدالت سے رجوع کریں، تو عدالت جائیداد کو نیلام کر کے حاصل شدہ رقم ورثاء میں تقسیم کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
  • دفعہ 3 (اندرونی خریداری کی درخواست / خاندانی تحفظ): جب کوئی شریکِ کار دفعہ 2 کے تحت فروخت کی استدعا کرے، تو کوئی بھی دوسرا خاندانی شریک کھاتہ دار عدالت میں درخواست دے سکتا ہے کہ وہ فروخت کنندہ کا حصہ خریدنے کو تیار ہے۔ عدالت ایک منظور شدہ تخمینہ کار (Evaluator) سے سرکاری مارکیٹ ویلیو لگوا کر درخواست گزار شریک کو وہ حصہ خریدنے کی اجازت دیتی ہے، تاکہ جائیداد خاندان سے باہر نہ جائے۔
  • دفعہ 4 (غیر متعلقہ اجنبی خریدار کے خلاف حقِ شفع و امتناع): یہ پاکستانی جائیداد کے قانون کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور حفاظتی شق ہے۔ اگر کسی غیر منقسم مشترکہ رہائشی مکان (Dwelling-house) میں سے کسی ایک وارث نے اپنا حصہ کسی باہر کے غیر متعلقہ شخص یا قبضہ مافیا کے کارندے کو فروخت کر دیا ہو، اور وہ خریدار تقسیم کا دعویٰ دائر کرے، تو خاندان کا کوئی بھی فرد دفعہ 4 کے تحت عدالت میں پیش ہو کر اس اجنبی کا حصہ عدالت کی مقرر کردہ قیمت پر خود خریدنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ عدالت اجنبی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا خریدا ہوا حصہ خاندان کے وارث کے نام منتقل کرے اور مکان سے نکل جائے۔

ج: ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 (دفعات 135 تا 150)

خالص زرعی اراضی کی تقسیم کے لیے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کا باب یازدہم (Chapter XI) ایک خود مختار اور متوازی انتظامی نظام وضع کرتا ہے۔ اسسٹنٹ کلیکٹر درجہ اول (تحصیلدار) کے روبرو درخواستِ تقسیم گزاری جاتی ہے۔ لیکن اس انتظامی کارروائی کے دوران سب سے نازک موڑ دفعہ 141 (Disposal of Questions as to Title) کے تحت آتا ہے:

اگر کارروائی کے دوران فریقین کے مابین حقیت یا ملکیت کا تنازعہ (Question of Title) اٹھ کھڑا ہو—جیسے کوئی فریق یہ اعتراض اٹھائے کہ فلاں انتقالِ وراثت بوگس ہے، ہبہ نامہ جعلی ہے، یا یہ اراضی 30 سال قبل زبانی تقسیم ہو چکی ہے—تو ریونیو افسر کو قانوناً قطعی کوئی اختیار حاصل نہیں رہتا کہ وہ سرسری طور پر اس اعتراض کو مسترد کرے۔ دفعہ 141 کے تحت ریونیو افسر پر لازم ہے کہ وہ تقسیم کی کارروائی کو فوری روک دے اور فریقین کو دیوانی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرے، یا پھر خود دیوانی عدالت کا روپ دھار کر باقاعدہ شہادت قلمبند کر کے فیصلہ صادر کرے۔

3. ثبوتی ضوابط، شواہد کی جانچ اور ریونیو ریکارڈ کی اہمیت (Evidentiary Rigour & Revenue Records)

دیوانی عدالت میں دعویٰ تقسیم کی کامیابی کا تمام تر دارومدار قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Qanun-e-Shahadat Order 1984) کے تحت پیش کیے جانے والے مستند دستاویزی شواہد پر ہوتا ہے۔ چونکہ عدالت نے طبعی اور ملکیتی حصص کا حتمی فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اس لیے زبانی بیانات کی بجائے مصدقہ سرکاری و ریونیو ریکارڈ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے:

الف: بنیادی ریونیو دستاویزات کی فہرست

  • رجسٹر حقدارانِ زمین / جمع بندی (Jamabandi): یہ مال کے محکمے کی سب سے مستند 4 سالہ دستاویز ہے جو مشترکہ کھاتے، کل رقبہ، خسرہ جات، اور تمام حصہ داران کے نام مع ان کے حصص کو ظاہر کرتی ہے۔ لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 52 کے تحت جمع بندی کے اندراجات کو قانونی قیاسِ صداقت (Presumption of Truth) حاصل ہوتا ہے۔ جب تک اس کے خلاف واضح دھوکہ دہی کا ثبوت نہ لایا جائے، عدالت اسی ریکارڈ پر انحصار کرتی ہے۔
  • انتقالِ وراثت (Inteqal-e-Wirasat): مورث کے انتقال کے بعد پٹوار اور تحصیلدار کا وہ باضابطہ تصدیق شدہ انتقال جس کے ذریعے شرعی ورثاء کے نام کھاتے میں شامل کیے گئے۔ قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے تحت انتقال ایک پبلک دستاویز ہے۔
  • عکس شجرہ و نقشہ بندوبست (Aks Shajra): گاؤں یا موضع کا کپڑے پر بنا ہوا سرکاری نقشہ جو ہر خسرہ نمبر کی حدود، سڑکوں، ندی نالوں اور ملحقہ رقبہ جات کی درست ترین جغرافیائی حالت واضح کرتا ہے۔ مقامی کمیشن کے لیے اس نقشے کے بغیر کھُرہ بندی کرنا قانونی طور پر ناممکن ہے۔
  • خسرہ گرداوری (Khasra Girdawari): پٹواری کا سال میں دو مرتبہ (ربیع و خریف) تیار کردہ معائنہ فصلات کا رجسٹر، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس فریق کا کس مخصوص ٹکڑے یا رقبے پر کاشتکاری یا طبعی قبضہ چلا آ رہا ہے۔

ب: نسب نامہ اور وارثان کی شناخت (نادرا ایف آر سی و شجرہ نسب)

دعویٰ تقسیم میں تمام قانونی ورثاء کو فریقِ مقدمہ (Parties to Suit) بنانا آرڈر 1 رول 10 ضابطہ دیوانی کے تحت لازمی قانونی شرط ہے۔ اگر کسی ایک بیٹی یا بیرونِ ملک مقیم بھائی کو جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر فریق بنانے سے چھوڑ دیا جائے، تو پورا دعویٰ عدمِ شمولیتِ ضروری فریقین (Non-joinder of Necessary Parties) کی بنا پر خارج ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نادرا کا جاری کردہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور ریونیو ریکارڈ روم سے مصدقہ شجرہ نسب (Pedigree Table) پیش کرنا ناگزیر ہے۔

ج: شریک کھاتہ داران کے درمیان حقِ قبضہ مخالفانہ (Adverse Possession) کی قانونی نفی

جب کوئی طاقتور بھائی یا قابض رشتہ دار یہ عذر پیش کرے کہ "میں پچھلے 20 یا 30 سال سے اس مکان یا زمین پر تنہا قابض ہوں اور دیگر بہن بھائیوں کا حقِ ملکیت زائد المعیاد ہو کر ختم ہو چکا ہے"، تو قانون کا جواب دو ٹوک ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کا صدیوں پر محیط مسلمہ قانون یہ ہے کہ ایک شریک کھاتہ دار کا قبضہ درحقیقت تمام شریک کھاتہ داران کا مشترکہ قبضہ تصور کیا جاتا ہے۔

شریک کھاتہ دار کے خلاف حقِ قبضہ مخالفانہ (Adverse Possession) تب تک قطعی ثابت نہیں ہو سکتا جب تک قابض فریق یہ ثابت نہ کرے کہ اس نے دیگر ورثاء کو کھلم کھلا، باضابطہ نوٹس دے کر جائیداد سے بے دخل (Ouster) کیا تھا اور ان کے علم میں لائے ہوئے 12 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ محض تنہا رہائش، بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی، یا زمین کی کاشت کبھی بھی شریک کھاتہ دار کی ملکیت کو ختم نہیں کر سکتی۔

4. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے لازمی و رہنما عدالتی نظائر (Binding Superior Court Precedents)

پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے تقسیمِ جائیداد کے مقدمات میں متعدد تاریخی فیصلے صادر فرمائے ہیں جو تمام ماتحت عدالتوں پر آئین کے تحت لازم ہیں۔ سینئر وکلاء کے لیے ان نظائر کا اطلاق ناگزیر ہے:

1. پی ایل ڈی 2020 سپریم کورٹ 456 (PLD 2020 SC 456) — تقسیم کا حق مستقل اور کبھی نہ ختم ہونے والا حق ہے

عدالتی اصول (Ratio): عدالتِ عظمیٰ کے لارجر بینچ نے حتمی طور پر قرار دیا کہ کسی بھی شریک کھاتہ دار کے لیے تقسیم کا دعویٰ دائر کرنے کا حق ایک مستقل اور مسلسل حق (Continuing Cause of Action) ہے۔ جب تک جائیداد سرکاری کاغذات میں مشترکہ درج ہے، تاخیر یا قانونِ میعاد (Limitation) کی بنیاد پر دعویٰ خارج نہیں کیا جا سکتا۔ مشترکہ ملکیت کا ہر گزرتا لمحہ تقسیم کا نیا حق پیدا کرتا ہے۔

2. 2019 ایس سی ایم آر 1709 (2019 SCMR 1709) — جزوی تقسیم کا سخت عدالتی بائیکاٹ و ممانعت

عدالتی اصول (Ratio): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دعویٰ تقسیم میں تمام مشترکہ ترکے کو شامل کرنا قانونی تقاضا ہے۔ کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے قیمتی شہری جائیداد کی تقسیم کا دعویٰ دائر کر کے کم قیمت یا دور دراز زرعی رقبے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جزوی تقسیم (Partial Partition) کا دعویٰ قانوناً غیر معقول اور ناقابلِ سماعت ہے سوائے اس صورت کے کہ چھوڑی گئی جائیداد کسی دوسرے صوبائی یا ملکیتی دائرہ اختیار میں واقع ہو۔

3. پی ایل ڈی 2017 سپریم کورٹ 733 (PLD 2017 SC 733) — مشترکہ رہائشی مکان کا تحفظ زیر دفعہ 4 پارٹیشن ایکٹ

عدالتی اصول (Ratio): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 4 پارٹیشن ایکٹ 1893 کا بنیادی مقصد خاندانی مکان کی پرائیویسی اور تقدس کو اجنبی افراد کی مداخلت سے بچانا ہے۔ اگر کوئی باہر کا اجنبی شخص مکان کا کچھ حصہ خرید کر تقسیم مانگے، تو خاندان کے کسی بھی وارث کا یہ مطلق حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کر کے اس خریدار کا حصہ منصفانہ مارکیٹ ریٹ پر خود خرید لے اور اجنبی کو بے دخل کرے۔

4. 2022 ایس سی ایم آر 1215 (2022 SCMR 1215) — بہنوں اور خواتین ورثاء کے وراثتی حقوق کا فولادی تحفظ

عدالتی اصول (Ratio): سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ جو بھائی آبائی جائیداد پر قابض ہیں، وہ قانوناً اپنی بہنوں اور دیگر ورثاء کے لیے بحیثیت امین (Trustee) کام کر رہے ہوتے ہیں۔ 30 یا 40 سال کی تاخیر بھی بہنوں کے حقِ وراثت کو ختم نہیں کر سکتی۔ کسی سادہ کاغذ پر بہنوں کی مبینہ "دستبرداری" (Dastbardari) جس کے عوض مناسب بدل نہ دیا گیا ہو، قانون کی نظر میں فراڈ اور کالعدم ہے۔

5. 2016 سی ایل سی 1420 پشاور ہائی کورٹ (دارالقضاء سوات مینگورہ بینچ) — سوات و ملاکنڈ میں حد براری و کھُرہ بندی کے اصول

عدالتی اصول (Ratio): پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے قرار دیا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سوات میں روایتی رواج کی بجائے باضابطہ عدالتی طریقہ کار ہی قابلِ قبول ہوگا۔ تقسیم کے مقدمات میں مقامی کمیشن پر لازم ہے کہ وہ زمین کی قیمت، سڑک سے رسائی (Frontage)، اور آبپاشی کے راستوں کو مدنظر رکھ کر قرعہ اندازی اور کھُرہ بندی کرے تاکہ تمام ورثاء کو برابری کی بنیاد پر نفع بخش زمین مل سکے۔

6. 2023 ایس سی ایم آر 890 (2023 SCMR 890) — ابتدائی ڈگری کی اپیل پذیری اور حتمیت

عدالتی اصول (Ratio): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ابتدائی ڈگری (Preliminary Decree) محض کوئی سرسری حکم نامہ نہیں ہوتا بلکہ یہ فریقین کے حصص کا باضابطہ فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی فریق اس ابتدائی ڈگری کے خلاف 30 دن کے اندر باقاعدہ اپیل دائر نہ کرے، تو دفعہ 97 ضابطہ دیوانی کے تحت وہ حتمی ڈگری کے مرحلے پر حصص کی درستگی پر کوئی اعتراض اٹھانے کا حق ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ہے۔

5. دیوانی و ریونیو عدالتوں میں تقسیم کا مرحلہ وار طریقہ کار (Step-by-Step Procedural Roadmap)

دیوانی عدالت میں دعویٰ تقسیم دائر کرنے سے لے کر موقع پر باضابطہ قبضہ حاصل کرنے تک کا سفر مندرجہ ذیل دس منظم اور قانونی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:

مرحلہ 1: قانونی نوٹس کا اجراء (Legal Notice)

عدالت سے رجوع کرنے سے قبل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ذریعے تمام شریک کھاتہ داران کو باضابطہ رجسٹرڈ قانونی نوٹس ارسال کیا جاتا ہے جس میں 15 سے 30 دن کے اندر باہمی رضامندی سے پرائیویٹ تقسیم مکمل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس سے فریقین کا عدمِ تعاون ریکارڈ پر آ جاتا ہے۔

مرحلہ 2: عرضی دعویٰ کی تیاری و ادخال (Drafting & Filing of Plaint)

سینئر سول جج کی عدالت میں آرڈر 7 ضابطہ دیوانی کے تحت جامع عرضی دعویٰ دائر کیا جاتا ہے۔ دعوے میں جائیداد کی تفصیلی حدودِ اربعہ، نادرا شجرہ نسب، تمام فریقین کے ریاضیاتی حصص، اور کورٹ فیس و مالیتِ دعویٰ کا اندراج کیا جاتا ہے۔

مرحلہ 3: فوری حکمِ امتناعی کا حصول (Interim Injunction under Order 39)

عرضی دعویٰ کے ساتھ آرڈر 39 رول 1 و 2 ضابطہ دیوانی کے تحت حکمِ امتناعی کی متفرق درخواست گزاری جاتی ہے۔ عدالت فوری طور پر حکمِ امتناعی (Status Quo) جاری کرتی ہے تاکہ مخالفین دورانِ مقدمہ جائیداد فروخت نہ کر سکیں، اس پر غیر قانونی تعمیرات نہ اٹھائیں، اور اس کی موجودہ ہئیت تبدیل نہ کریں۔

مرحلہ 4: سمنات کی تعمیل اور جواب دعویٰ (Summons & Written Statement)

مدعا علیہان کو بذریعہ بیلف، ڈاک، اور اخبار اشتہار طلب کیا جاتا ہے۔ حاضر عدالت ہو کر وہ آرڈر 8 کے تحت اپنا تحریری جواب دعویٰ داخل کرتے ہیں جس میں وہ اپنے قانونی و دستاویزی اعتراضات اٹھاتے ہیں۔

مرحلہ 5: وضع تنقیحات و شہادتِ فریقین (Framing of Issues & Evidence)

عدالت فریقین کے بیانات کی روشنی میں متنازعہ امور (Issues) وضع کرتی ہے۔ فریقین اپنے اپنے گواہان اور دستاویزی شواہد پیش کرتے ہیں۔ پٹواری اور ریونیو عملہ اصل ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہو کر بیانات قلمبند کرواتا ہے جن پر جرح (Cross-Examination) کی جاتی ہے۔

مرحلہ 6: صدورِ ابتدائی ڈگری (Passing of Preliminary Decree)

شہادت کے جائزے کے بعد عدالت ایک باضابطہ فیصلہ اور ابتدائی ڈگری صادر کرتی ہے۔ اس ڈگری میں قطعی طور پر یہ طے کر دیا جاتا ہے کہ کس کس وارث کا کل جائیداد میں کتنا قانونی حصہ ہے۔

مرحلہ 7: تقرریِ مقامی کمیشن برائے کھُرہ بندی (Appointment of Local Commission)

ابتدائی ڈگری کے بعد عدالت آرڈر 26 رول 13 کے تحت ایک سینئر وکیل یا ریونیو قانون گو کو مقامی کمیشن مقرر کرتی ہے۔ کمیشن موقع پر جا کر پیمائش کرتا ہے، فریقین کی موجودگی میں نقشہ بناتا ہے، اور زمین کو مساوی حصوں میں تقسیم کر کے کھُرے (Lots) تجویز کرتا ہے۔

مرحلہ 8: پارٹیشن ایکٹ کے تحت عدالتی نیلامی یا خاندانی خریداری (Auction / Buy-out)

اگر کمیشن رپورٹ دے کہ جائیداد طبعی طور پر تقسیم نہیں ہو سکتی، تو پارٹیشن ایکٹ کی دفعہ 2 و 3 کے تحت سرکاری تخمینہ لگوایا جاتا ہے۔ فریقین کو آپس میں حصہ خریدنے کا موقع دیا جاتا ہے، ورنہ کھلی نیلامی کے ذریعے جائیداد فروخت کر کے رقم ورثاء میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔

مرحلہ 9: صدورِ قطعی ڈگری (Passing of Final Decree)

کمیشن رپورٹ یا نیلامی کی توثیق کے بعد دیوانی عدالت مطلوبہ نان جوڈیشل اسٹامپ پیپر پر حتمی ڈگری (Final Decree) جاری کر دیتی ہے، جس کے بعد جائیداد قانونی طور پر منقسم شمار ہوتی ہے۔

مرحلہ 10: اجراء ڈگری اور موقع پر فزیکل قبضہ (Execution & Physical Possession)

ڈگری دار آرڈر 21 رول 35 ضابطہ دیوانی کے تحت اجراء کا کیس دائر کرتا ہے۔ عدالت وارنٹِ دخل (Warrant of Possession) جاری کرتی ہے۔ عدالتی بیلف، ریونیو پٹواری، اور پولیس نفری موقع پر پہنچ کر حد بندی کی دیواریں یا ستون قائم کر کے ڈگری دار کو اس کا علیحدہ فزیکل قبضہ دلاتی ہے، جس سے کارروائی پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔

6. قانونی دفاع، مخالفانہ حکمتِ عملی اور عدالتی باریکیاں (Strategic Defenses & Litigation Pitfalls)

تقسیم کے مقدمات میں پیش آنے والے اہم ترین قانونی اعتراضات اور ان کا مؤثر توڑ درج ذیل ہے:

1. عذرِ جزوی تقسیم (Partial Partition Bar) اور اس کا تدارک

مدعا علیہان کا سب سے عام عذر یہ ہوتا ہے کہ مدعی نے جان بوجھ کر فلاں شہر یا موضع کی زمین دعوے میں شامل نہیں کی اس لیے دعویٰ خارج کیا جائے۔ اس عذر کا مؤثر تدارک یہ ہے کہ مدعی فوری طور پر آرڈر 6 رول 17 ضابطہ دیوانی کے تحت عرضی دعویٰ میں ترمیم کی درخواست دے کر وہ تمام رقبہ جات شامل کر لے، تاکہ دعویٰ عدم شمولیت کی تکنیکی خرابی سے محفوظ ہو جائے۔

2. عذرِ سابقہ زبانی تقسیم (Plea of Prior Oral Partition) کی قانونی حیثیت

قابض فریق اکثر یہ جھوٹا موقف اپناتا ہے کہ "ہمارے بزرگوں نے 25 سال پہلے زبانی تقسیم کر دی تھی اور سب اپنے اپنے رقبے پر قابض ہیں"۔ سپریم کورٹ کے اصولوں کے مطابق سابقہ زبانی تقسیم کو ثابت کرنے کا سخت ترین بوجھ اسی فریق پر ہوتا ہے۔ اگر ریونیو ریکارڈ میں اب بھی مشترکہ کھاتہ درج ہے اور پٹوار میں کوئی انتقالِ تقسیم منظور نہیں ہوا، تو عدالت زبانی دعوے کو یکسر مسترد کر کے قانونی تقسیم کی ڈگری جاری کرتی ہے۔

3. تعمیرات کے اخراجات کا عذر اور کھُرہ بندی میں ایڈجسٹمنٹ

اگر کسی شریک نے مشترکہ اراضی پر اپنے ذاتی خرچ سے کوئی مکان یا عمارت کھڑی کر رکھی ہو، تو وہ دیگر ورثاء سے اس کا غیر ضروری تاوان نہیں مانگ سکتا۔ تاہم انصاف کا تقاضا ہے کہ لوکل کمیشن اس طرح کھُرے بنائے کہ وہ عمارت اسی فریق کے حصے میں آ جائے اور اس کی اضافی مالیتی قدر (Owelty) کا دیگر ورثاء کے ساتھ نقد یا اضافی زمین کے ذریعے تصفیہ کر دیا جائے۔

4. اوورسیز پاکستانیوں کا عدالتی و قونصلر تحفظ

تارکینِ وطن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کا سفر کیے بغیر اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ ملک (دبئی، ریاض، لندن وغیرہ) میں پاکستانی سفارت خانے سے مختار نامہ خاص (Special Power of Attorney) تصدیق کروا کر وزارتِ خارجہ پاکستان سے رجسٹرڈ کروائیں اور ہائی کورٹ کے مستند وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں۔ اس سے قابض عناصر کی جانب سے پسِ پشت یکطرفہ ڈگری حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

7. تقابلی جائزہ و پریکٹس گائیڈ (Comparative Practice Matrices)

مقدمہ بازی سے قبل قانونی راستوں اور مالیاتی تقاضوں کا فوری موازنہ درج ذیل چارٹ میں ملاحظہ فرمائیں:

قانونی طریقہ کار (Legal Pathway)متعلقہ قانون و عدالتکورٹ فیس کا معیاراہم ترین فوائد و نتائج
دیوانی دعویٰ تقسیم (Civil Partition)آرڈر 20 رول 18 ضابطہ دیوانی مع پارٹیشن ایکٹ 1893 (سینئر سول جج)مشترکہ قبضے کی صورت میں فکسڈ کورٹ فیس (50 تا 200 روپے)حتمی اور بااختیار فیصلہ، اسٹے آرڈر کا اختیار، نیلامی یا اندرونی خریداری کی قانونی سہولت۔
ریونیو تقسیم (Revenue Partition)دفعات 135 تا 150 لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 (اسسٹنٹ کلیکٹر درجہ اول)معمولی کورٹ فیس اسٹامپخالص زرعی اراضی کے لیے تیز رفتار، تاہم ملکیت کا تنازعہ اٹھنے پر کیس سول کورٹ منتقل ہو جاتا ہے۔
باہمی رجسٹرڈ تصفیہٴ خانگی (Settlement Deed)رجسٹریشن ایکٹ 1908 (سب رجسٹرار و انتقالِ مال)رجسٹریشن فیس و صوبائی اسٹامپ ڈیوٹیعدالتی چکروں سے نجات؛ تاہم 100 فیصد تمام ورثاء کا باہمی مکمل اتفاق لازمی شرط ہے۔

8. اکثر پوچھے جانے والے عملی و قانونی سوالات مع جوابات (Comprehensive Legal FAQs)

سوال 1: کیا کوئی شریک کھاتہ دار غیر منقسم جائیداد میں سے کوئی خاص کونا یا مخصوص دکان تنہا فروخت کر سکتا ہے؟

جواب: سپریم کورٹ کے مستند فیصلے (2014 SCMR 1007) کے مطابق کوئی بھی حصہ دار غیر منقسم کھاتے میں سے کوئی مخصوص ٹکڑا یا دکان حدودِ اربعہ کے ساتھ فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے حسابی حصے کی حد تک فروخت کر سکتا ہے۔ خریدار صرف حصہ دار بنے گا اور وہ بھی باقاعدہ دعویٰ تقسیم دائر کر کے ہی اپنا قبضہ لے سکتا ہے۔

سوال 2: اگر کوئی آبائی رہائشی مکان طبعی طور پر تقسیم نہ ہو سکتا ہو تو عدالت کیا کرتی ہے؟

جواب: پارٹیشن ایکٹ 1893 کی دفعات 2 اور 3 کے تحت عدالت مکان کا سرکاری مارکیٹ ریٹ لگواتی ہے۔ ورثاء کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا حصہ خرید لیں۔ اگر کوئی وارث خریدنے پر تیار نہ ہو تو عدالت مکان کو کھلی بولی میں نیلام کر کے رقم تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق بانٹ دیتی ہے۔

سوال 3: تقسیم کے دعوے میں ابتدائی ڈگری اور قطعی ڈگری میں کیا بنیادی فرق ہے؟

جواب: ابتدائی ڈگری (Preliminary Decree) فریقین کے حقوق، شجرہ نسب اور ان کے ریاضیاتی حصص کا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ اس کے بعد لوکل کمیشن موقع پر جا کر زمین کی طبعی پیمائش اور کھُرے بناتا ہے جس کی توثیق کے بعد عدالت قطعی ڈگری (Final Decree) جاری کر کے فزیکل قبضہ دلاتی ہے۔

سوال 4: کیا بیرونِ ملک مقیم بھائی بہنوں کی زمین پر پاکستان میں بیٹھا وارث حقِ قبضہ مخالفانہ (Adverse Possession) کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

جواب: ہرگز نہیں۔ سپریم کورٹ کے اصولوں کے مطابق شریک کھاتہ داروں کے مابین ایک کا قبضہ سب کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ورثاء کے خلاف قابض وارث کبھی بھی طویل قبضے کی بنیاد پر زمین کا تنہا مالک نہیں بن سکتا۔

سوال 5: اوورسیز پاکستانی پاکستان کا سفر کیے بغیر اپنے وراثتی حق کی تقسیم کا کیس کیسے لڑ سکتے ہیں؟

جواب: اوورسیز پاکستانی متعلقہ ملک میں پاکستانی سفارت خانے سے مختار نامہ خاص (Power of Attorney) تصدیق کروا کر وزارتِ خارجہ اسلام آباد سے رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں، جس کے بعد ان کے نامزد وکیل ہائی کورٹ یا نمائندے تمام تر عدالتی کارروائی سرانجام دے سکتے ہیں۔

سوال 6: تقسیمِ جائیداد کا دعویٰ دائر کرنے کی میعاد کتنے سال ہے؟

جواب: سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے (PLD 2020 SC 456) کے مطابق دعویٰ تقسیم کا حق ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والا حق ہے۔ جب تک ریکارڈ میں جائیداد مشترکہ کھاتے میں درج ہے، تقسیم کا دعویٰ کسی بھی وقت دائر کیا جا سکتا ہے اور اس پر میعاد کی کوئی قدغن لاگو نہیں ہوتی۔

9. انٹرنیشنل لاء فرم سے قانونی رہنمائی و چیمبرز مشاورت (Chambers Consultation)

اعلیٰ عدالتی وکالت و چیمبرز کونسل // پشاور ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ و سپریم کورٹ آف پاکستان

آبائی جائیداد کی تقسیم اور وراثتی حقوق کا قانونی تحفظ

مشترکہ غیر منقسم اراضی، کمرشل املاک کی حد براری، اور قابض عناصر کے ہتھکنڈوں کے خلاف کامیابی کے لیے دیوانی قوانین اور اعلیٰ عدالتی نظائر پر عبور ناگزیر ہے۔ انٹرنیشنل لاء فرم (International Law Firm) کے تجربہ کار وکلاء پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بنچ دارالقضاء سوات)، لاہور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں جائیداد اور تقسیم کے پیچیدہ مقدمات میں پیشہ ورانہ قانونی خدمات فراہم کرتے ہیں۔