سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں، سی پی ایل اے اور آئینی پٹیشنز
سپریم کورٹ آف پاکستان (اسلام آباد و پشاور رجسٹری) میں سول، کرمنل، آئینی اور ریونیو مقدمات میں سی پی ایل اے (CPLA) اور نظرثانی کی ماہرانہ پیروی۔
جامع قانونی نمائندگی و عدالتی حکمت عملی
سپریم کورٹ آف پاکستان میں حتمی قانونی نمائندگی
انٹرنیشنل لاء فرم کے سینئر ایڈوکیٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو ملک کے سب سے بڑے عدالتی فورم پر اپنے موکلین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے حتمی فیصلوں یا عبوری احکامات کے خلاف سپریم کورٹ میں سول پٹیشن برائے اجازت اپیل (CPLA) اور کرمنل پٹیشنز دائر کرنا انتہائی تکنیکی اور قانونی مہارت کا متقاضی ہے۔
سپریم کورٹ رجسٹریوں میں ہماری خدمات:
- سی پی ایل اے (CPLA - Civil Petition for Leave to Appeal): ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف 60 اور 90 دن کی قانونی مدت کے اندر مدلل پٹیشنز کی تیاری۔
- آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عوامی مفاد کے مقدمات: بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف سپریم کورٹ کا اصل دائرہ اختیار۔
- فوجداری اپیلیں و سزائے موت کے خلاف اپیل: قتل ریفرنس اور ہائی کورٹ کی سزاؤں کے خلاف حتمی اپیلیں۔
- ریویو پٹیشنز (Review Petitions): سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں پر قانونی و آئینی بنیادوں پر نظرثانی کی درخواستیں۔
بنیادی قانونی خدمات و دائرہ کار
کیس کے تفصیلی جائزے کی درخواست
Direct matter evaluation by High Court Advocates within 24 hours.
Frequently Asked Legal Questions
Essential information regarding court timelines, documentation, and client representation.
سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت کیا ہے؟
عام طور پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سی پی ایل اے دائر کرنے کی مدت 60 سے 90 دن ہوتی ہے۔ تاخیر کی صورت میں معافی تاخیر کی ٹھوس وجوہات درکار ہوتی ہیں۔
کیا ہر مقدمہ سپریم کورٹ لے جایا جا سکتا ہے؟
نہیں، سپریم کورٹ میں صرف وہی مقدمات سنے جاتے ہیں جن میں قانون کی غلط تشریح، آئینی سقم یا بنیادی انصاف کا تقاضا پامال ہوا ہو۔
