وکلاء سپریم کورٹ و پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات) · اوورسیز لیگل ایڈ ڈیسک برائے متحدہ عرب امارات، برطانیہ و خلیجی ممالک
صفحہ اول قانونی بلاگ و مضامین رابطہ و چیمبرز
+92 348 0880003
Civil Law

پاکستان میں دعویٰ وصولی زر بربنائے آرڈر 37 ضابطہ دیوانی

Advocate Naseer Ullah Khan
Pakistani court fee revenue stamps and judicial stamp paper for filing a suit for recovery under order 37 cpc pakistan in civil court

پاکستان میں دعویٰ وصولی زر بربنائے آرڈر 37 ضابطہ دیوانی پرامیسری نوٹ، چیک اور تحریری مالی معاہدات کے تحت پھنسے ہوئے سرمائے اور قرضوں کی تیز ترین قانونی واپسی کا باضابطہ طریقہ ہے۔ اس کے تحت مدعا علیہ کو عدالت سے 10 دن کے اندر جوابدہی کی پیشگی اجازت (Leave to Defend) لینا لازمی ہوتی ہے۔

1. فوری جواب: دعویٰ وصولی زر بربنائے آرڈر 37 کیا ہے؟

پاکستان میں دعویٰ وصولی زر بربنائے آرڈر 37 ضابطہ دیوانی مالی واجبات کی واپسی کا خلاصہ طریقہ کار ہے۔ یہ دعویٰ سینئر سول جج کے روبرو پرامیسری نوٹ، مسترد شدہ چیک یا تحریری اقرار نامے پر دائر ہوتا ہے۔ مدعا علیہ کو سمن وصولی کے 10 دن میں اجازتِ دفاع لینا لازمی ہے۔ اجازت نہ ملنے پر عدالت بغیر شہادت فوری ڈگری جاری کرتی ہے۔

2. قانون کیا کہتا ہے؟ متعلقہ دفعات و قانونی مفروضات

قرض وصولی کا قانونی فریم ورک درج ذیل بنیادی قوانین پر قائم ہے:
  • ضابطہ دیوانی 1908 (آرڈر 37 قواعد 1 تا 7): قاعدہ 2 کے تحت اصل دستاویز کے ساتھ دعویٰ دائر ہوتا ہے اور مخصوص فارم 4 سمن جاری ہوتا ہے۔ قاعدہ 3 کے تحت مدعا علیہ 10 دن میں اجازتِ دفاع لینے کا پابند ہے، ورنہ دعویٰ تسلیم شدہ تصور ہوتا ہے۔ قاعدہ 4 کے تحت یکطرفہ ڈگری صرف خاص وجوہات پر منسوخ ہوتی ہے۔
  • نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ 1881: دفعات 4، 5 اور 6 کے تحت پرامیسری نوٹ اور چیک قانونی دستاویزات ہیں۔ دفعہ 118 کے تحت دستخط ثابت ہونے پر مفروضہ حاصل ہے کہ دستاویز جائز عوض کے بدلے لکھی گئی۔
  • قانونِ میعاد 1908: آرٹیکل 64-اے کے تحت دعویٰ دائر کرنے کی میعاد 3 سال ہے، جبکہ آرٹیکل 159 کے تحت اجازتِ دفاع کی درخواست کے لیے صرف 10 دن کی حتمی مہلت ہے۔
  • کورٹ فیس ایکٹ 1870: خیبر پختونخوا میں واجب الادا رقم پر ایڈ ویلورم کورٹ فیس ادا کی جاتی ہے [VERIFY: KPK position]۔
چیک باؤنس پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-ایف کے تحت فوجداری پرچہ اور آرڈر 37 کا سول دعویٰ بیک وقت دائر ہو سکتے ہیں۔

3. عدالتی کارروائی کا مرحلہ وار طریقہ کار

  1. قانونی نوٹس: وکیل کے ذریعے مقروض کو 7 تا 14 دن کا حتمی نوٹس بذریعہ ڈاک بھیجا جاتا ہے۔
  2. دعوے کا ادخال: اصل پرامیسری نوٹ یا بینک میمو مع عدالتی فیس سینئر سول جج کو پیش کیا جاتا ہے۔
  3. فارم 4 سمن: عدالت بیلف، رجسٹری ڈاک اور اخبار اشتہار کے ذریعے مخصوص سمن جاری کرتی ہے۔
  4. اجازتِ دفاع: سمن وصولی کے 10 دن میں مدعا علیہ ٹھوس عذرات پر مبنی حلف نامہ جمع کراتا ہے۔
  5. فیصلہ بر درخواست: معقول عذر پر غیر مشروط یا کیش سکیورٹی جمع کرانے پر مشروط اجازت ملتی ہے۔
  6. ڈگری و اجراء: عذر مسترد ہونے پر فوری ڈگری صادر ہوتی ہے، جس کے بعد آرڈر 21 کے تحت جائیداد نیلام کروائی جاتی ہے۔

4. لازمی دستاویزات و عدالتی ثبوت

  • اصل پرامیسری نوٹ، چیک یا تحریری اقرار نامہ قرض۔
  • بینک کا میمو جس پر چیک مسترد ہونے کا سبب درج ہو۔
  • قانونی نوٹس کی نقل مع رجسٹری رسیدات۔
  • بینک اسٹیٹمنٹ یا اکاؤنٹ لیجر برائے ثبوت ادائیگی قرض۔
  • اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سفارت خانہ اور وزارت خارجہ سے مصدقہ مختار نامہ۔

5. اعلیٰ عدالتوں کے اہم نظائر و فیصلے

  • فائن ٹیکسٹائل ملز بنام حاجی عمر (PLD 1969 SC 163): سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ اگر مدعا علیہ کوئی معقول عذر پیش کرے تو اجازتِ دفاع مسترد نہیں ہونی چاہیے۔
  • حاجی علی خان بنام الائیڈ بینک (PLD 1995 SC 362): عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ 10 دن کی میعاد لازمی ہے؛ تاخیر پر دعویٰ تسلیم شدہ مان کر فوری ڈگری جاری ہوگی۔
  • مرتضیٰ حسیب بنام ستارہ کیمیکل (2004 SCMR 882): سپریم کورٹ کے مطابق مشروط اجازت میں سکیورٹی جمع نہ کرانے پر دفاع کا حق ختم ہو جاتا ہے۔
  • پشاور ہائی کورٹ نظائر: یکطرفہ ڈگری کے خلاف عام درخواست لاگو نہیں ہوتی، بلکہ آرڈر 37 رول 4 کے تحت غیر معمولی مجبوری ثابت کرنا لازم ہے۔

6. سوات و خیبر پختونخوا میں عدالتی دائرہ اختیار اور اوورسیز رہنمائی

ضلع سوات میں دعویٰ وصولی زر سینئر سول جج بمقام گل کدہ سیدو شریف دائر ہوتا ہے، جبکہ زائد مالیت کے تجارتی دعوے ڈسٹرکٹ جج سنتے ہیں۔ اپیل و نگرانی پشاور ہائی کورٹ (دارالقضاء مینگورہ سوات) میں دائر ہوتی ہے۔اوورسیز پاکستانی (یو اے ای، سعودی عرب، برطانیہ): تارکینِ وطن پاکستان آئے بغیر نادرا ڈیجیٹل پورٹل یا سفارت خانے کے تصدیق شدہ مختار نامے کے ذریعے سوات میں مقدمہ چلا سکتے ہیں۔ عدالتی بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔

7. موازنہ چارٹ: آرڈر 37 بنام عام دیوانی و فوجداری چارہ جوئی

قانونی چارہ جوئیعدالتی فورممیعادِ سماعتعدالتی فیسمتوقع دورانیہ
آرڈر 37 خلاصہ دعویٰسینئر سول جج سوات3 سال (آرٹیکل 64-اے)ایڈ ویلورم شیڈول کے پی [VERIFY: KPK position]3 تا 9 ماہ
عام دیوانی دعویٰسول جج درجہ اول3 سالایڈ ویلورم فیس3 تا 5 سال
ایف آئی آر 489-ایفجوڈیشل مجسٹریٹفوری بعد از مستردگیکوئی فیس نہیں6 تا 18 ماہ
اجرائے ڈگری (آرڈر 21)مجریہ سول کورٹڈگری سے 3 سالمعمولی فیس3 تا 12 ماہ

8. اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

پاکستان میں آرڈر 37 کا دعویٰ وصولی زر کیا ہوتا ہے؟

آرڈر 37 کے تحت دعویٰ پرامیسری نوٹ، چیک یا تحریری اقرار نامے کے ذریعے رقم کی واپسی کا تیز رفتار دیوانی مقدمہ ہے۔ مدعا علیہ کو 10 دن میں جوابدہی کی پیشگی عدالتی اجازت لینا پڑتی ہے، جس سے بلاوجہ تاخیر ختم ہوتی ہے۔

آرڈر 37 کا دعویٰ دائر کرنے کی قانونی میعاد کتنی ہے؟

قانونِ میعاد کے آرٹیکل 64-اے کے تحت آرڈر 37 کا مقدمہ رقم کی عدم ادائیگی یا چیک باؤنس ہونے کی تاریخ سے 3 سال کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔ تین سال بعد دعویٰ زائد المیعاد ہو کر خارج ہو جاتا ہے۔

مدعا علیہ کے پاس اجازتِ دفاع کی درخواست کے لیے کتنے دن ہوتے ہیں؟

آرٹیکل 159 کے تحت مدعا علیہ کو فارم 4 سمن موصول ہونے کے بعد صرف 10 دن کے اندر اجازتِ دفاع کی درخواست دینا ہوتی ہے۔ دس دن ختم ہونے پر عدالت مدعی کے حق میں فوری ڈگری صادر کرتی ہے۔

اگر عدالت اجازتِ دفاع مسترد کر دے تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

اجازتِ دفاع مسترد ہونے کی صورت میں دعوے کے تمام مندرجات قانونی طور پر تسلیم شدہ مانے جاتے ہیں۔ عدالت مدعی کے حق میں بغیر شہادت ریکارڈ کیے فوری حتمی ڈگری برائے اصل زر و اخراجات صادر کرتی ہے۔

کیا 489-ایف ایف آئی آر اور آرڈر 37 کا دعویٰ ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

جی ہاں، چیک باؤنس ہونے پر پولیس میں 489-ایف کا پرچہ اور سول کورٹ میں آرڈر 37 کا دعویٰ بیک وقت دائر ہو سکتے ہیں۔ فوجداری مقدمہ جرم کی سزا کے لیے ہوتا ہے جبکہ سول دعویٰ اصل رقم کی واپسی کے لیے ہوتا ہے۔

سوات اور خیبر پختونخوا میں وکیلِ دیوانی سے قانونی رہنمائی حاصل کریں

اگر آپ سوات، ملاکنڈ یا خیبر پختونخوا میں پھنسی ہوئی رقوم، پرامیسری نوٹ یا مسترد شدہ چیک کی فوری واپسی چاہتے ہیں، تو ہماری سینئر وکلاء کی ٹیم سینئر سول جج اور پشاور ہائی کورٹ میں موثر پیروی فراہم کرتی ہے۔ اوورسیز پاکستانی بھی مختار نامے کے ذریعے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

دستبرداری: یہ قانونی رہنمائی صرف عمومی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے اور مخصوص تنازعے میں حتمی قانونی رائے کی حیثیت نہیں رکھتی۔ مالی وصولی کے مقدمات دستاویزی شواہد اور عدالت کے صوابدیدی اختیار پر منحصر ہوتے ہیں۔ باضابطہ قوانین کے لیے پاکستان کوڈ اور پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ نظرثانی شدہ از سینئر ایڈووکیٹ، پشاور ہائی کورٹ و سپریم کورٹ آف پاکستان، اکتوبر 2026ء۔