وکلاء سپریم کورٹ و پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات) · اوورسیز لیگل ایڈ ڈیسک برائے متحدہ عرب امارات، برطانیہ و خلیجی ممالک
صفحہ اول قانونی بلاگ و مضامین رابطہ و چیمبرز
+92 348 0880003
Civil Law

پاکستان میں اجرائے ڈگری اور آرڈر 21 کی عذرداری کا طریقہ

Advocate Naseer Ullah Khan
Pakistani civil court decree and execution registry docket for execution of decree objection petition order 21 cpc limitation pakistan

مختصر عدالتی جواب

پاکستان میں دیوانی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے آرڈر 21 سی پی سی کے تحت تین سال کے اندر درخواست دائر کرنا لازمی ہے۔ مزاحمت یا بے جا عذرداری کی صورت میں عدالتِ اجراء کو پولیس کی مدد سے تالے توڑ کر قبضہ دلانے اور بلاجواز اعتراضات خارج کرنے کا مکمل اختیار ہے۔

دیوانی مقدمات میں ڈگری کا حصول صرف پہلا مرحلہ ہے۔ فیصلے پر باقاعدہ عدالتی عملدرآمد کو اجرائے ڈگری (Execution of Decree) کہا جاتا ہے، جو ضابطہ دیوانی 1908ء کے آرڈر 21 اور دفعات 36 تا 74 کے تحت چلایا جاتا ہے۔

متعلقہ قوانین، ضابطہ دیوانی اور میعادِ سماعت

آرڈر 21 کے تحت نفاذ کے بنیادی قواعد درج ذیل ہیں:

  • رول 10 و 11: ڈگری دار کی جانب سے دادرسی کے اندراج کے ساتھ باضابطہ درخواستِ اجراء۔
  • رول 22: ڈگری کے ایک سال بعد کارروائی پر مدیون کو قانونی نوٹس کا اجراء۔
  • رول 23-اے: مدیون کے اعتراضات کی سماعت کے لیے زرِ ڈگری جمع کروانا یا زرضمانت دینا لازمی ہے۔
  • رول 35: جائیداد کا خالی قبضہ دلانے کے لیے وارنٹِ دخل دہانی (Warrant of Possession) کا اجراء۔
  • رول 97 تا 103: فریق ثالث کی مزاحمت کی سماعت۔ رول 103 کے تحت علیحدہ دیوانی دعویٰ قطعی ممنوع ہے۔
  • قانونِ میعاد: پہلی درخواستِ اجراء کے لیے آرٹیکل 181 کے تحت 3 سال کی حتمی میعاد ہے، جبکہ دفعہ 48 سی پی سی کے تحت زیادہ سے زیادہ حد 6 سال ہے۔
  • خیبر پختونخوا ترامیم: کے پی سی پی سی ترمیمی ایکٹ 2020ء کے تحت مقدمات کے فوری فیصلے کا نظام نافذ ہے۔

اجرائے ڈگری کا مرحلہ وار عدالتی طریقہ کار

ڈگری کے نفاذ اور عذرداری کے فیصلے کے مراحل درج ذیل ہیں:

  1. ڈگری شیٹ کا حصول: فیصلہ ہوتے ہی نقل برانچ سے فیصلے اور ڈگری شیٹ کی تصدیق شدہ نقول حاصل کریں۔ (مدت: 10 تا 15 دن)۔
  2. درخواستِ اجراء: سینئر سول جج کی عدالت میں رول 11 کے تحت اجراء دائر کریں۔ (مدت: 3 سال کے اندر)۔
  3. نوٹس مدیون: عدالت مدیون کو نوٹس جاری کرتی ہے اور عدم تعمیل پر اخباری اشتہار ہوتا ہے۔ (مدت: 3 تا 4 ہفتے)۔
  4. عذرداری کی سماعت: اعتراضات پر رول 23-اے کی سیکیورٹی چیک کر کے غیر قانونی عذرداری خارج کی جاتی ہے۔ (مدت: 1 تا 2 ماہ)۔
  5. وارنٹِ دخل: عدالت عدالتی بیلف کے نام جائیداد کا قبضہ دلوانے کا باضابطہ وارنٹ جاری کرتی ہے۔ (مدت: 2 تا 3 ہفتے)۔
  6. پولیس امداد: مزاحمت پر عدالت دفعہ 151 کے تحت پولیس نفری اور تالے توڑنے کا حکم دیتی ہے۔ (مدت: 2 ہفتے)۔
  7. قبضے کی حوالگی: بیلف مشیرنامہ دخل تیار کر کے قبضہ ڈگری دار کے حوالے کرتا ہے۔ (مدت: 1 تا 2 ہفتے)۔

ضروری عدالتی و ریونیو دستاویزات

ڈگری دار کے لیے دستاویزات

  • فیصلے اور ڈگری شیٹ کی تصدیق شدہ نقول۔
  • اپیل کا ریکارڈ جس سے ثابت ہو کہ کوئی اسٹے آرڈر نہیں ہے۔
  • تازہ فردِ ملکیت اور عکس شجرہ برائے تصدیقِ حدود۔
  • اوورسیز مالکان کے لیے سفارت خانے سے مصدقہ مختار نامہ خاص۔

معترض کے لیے دستاویزات

  • مقدمے سے قبل کی رجسٹرڈ رجسٹری یا انتقالِ اراضی۔
  • قبضے کے بلات و میونسپل ٹیکس کی رسیدات۔
  • رول 23-اے کے تحت عدالتی زرضمانت کی رسید۔

اعلیٰ عدلیہ و سپریم کورٹ کے اہم فیصلے

1. محبوب خان بنام حسن خان درانی (PLD 1990 SC 778)

اصول: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی درخواستِ اجراء پر آرٹیکل 181 لاگو ہوتا ہے جس کی میعاد 3 سال ہے۔ دفعہ 48 سی پی سی زائد المیعاد ڈگری کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتی۔

2. مسمات فہمیدہ بیگم بنام محمد خالد (1992 SCMR 1908)

اصول: سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ آرڈر 21 رول 103 کے تحت علیحدہ دیوانی دعویٰ ممنوع ہے۔ فریق ثالث کی ملکیت کا حتمی فیصلہ عدالتِ اجراء ہی کرے گی۔

3. بختیار احمد بنام مسمات شمیم اختر (2013 SCMR 5)

اصول: عدالتِ عظمیٰ نے طے کیا کہ محض اپیل دائر کرنے سے میعاد نہیں رکتی جب تک باقاعدہ حکمِ امتناعی موجود نہ ہو۔

4. پولیس امداد اور تالے توڑنا [VERIFY: local police escort deployment requisition fee in Swat]

اصول: پشاور ہائی کورٹ کے مطابق عدالتِ اجراء کو دفعہ 151 کے تحت پولیس نفری طلب کرنے اور مقفل تالے توڑ کر قبضہ دلانے کا پورا اختیار ہے [VERIFY: local police escort deployment requisition fee in Swat]۔

سوات و خیبر پختونخوا اور اوورسیز پاکستانی

25ویں ترمیم کے بعد سوات اور مالاکنڈ میں ضابطہ دیوانی مکمل نافذ ہے۔ مینگورہ اور سیدو شریف کی اراضی کے نفاذ کی درخواستیں سینئر سول جج سوات بمقام گل کدہ میں دائر ہوتی ہیں۔ ماتحت عدالت کے حکم کے خلاف نگرانی دیوانی (Civil Revision) دفعہ 115 کے تحت پشاور ہائی کورٹ (دارالقضاء سوات) میں دائر کی جاتی ہے۔

اوورسیز پاکستانی درج ذیل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:

  • پاکستانی سفارت خانے یا نادرا ڈیجیٹل پورٹل سے مختار نامہ خاص کی تصدیق۔
  • دارالقضاء سوات اور سول کورٹس میں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی بیانات کا اندراج۔
  • جعلی اور بوگس عذرداریوں کی فوری منسوخی اور غیر قانونی قابضین کے خلاف قانونی چارہ جوئی۔

تقابلی عدالتی جدول

قانونی چارہ جوئیمجاز عدالتی فورممیعادِ سماعتعدالتی فیستخمینہ وقت
پہلی درخواستِ اجراءعدالتِ اجراء3 سال (آرٹیکل 181)معمولی فیس3 تا 9 ماہ
بعد ازاں اجراءعدالتِ اجراء6 سال (دفعہ 48)معمولی فیس3 تا 6 ماہ
مدیون کی عذرداریعدالتِ اجراءنوٹس کے فوری بعدزرضمانت (رول 23-اے)1 تا 3 ماہ
فریق ثالث کی عذرداریعدالتِ اجراءمزاحمت کے وقتمتفرق فیس2 تا 5 ماہ
وارنٹِ دخل و پولیس امدادعدالت و پولیسدورانِ وارنٹطلبانہ [VERIFY]2 تا 4 ہفتے
نگرانی دیوانیدارالقضاء سوات90 دنمقررہ فیس6 تا 18 ماہ

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

1. پاکستان میں دیوانی ڈگری کے اجراء کے لیے میعاد کتنی ہوتی ہے؟

آرٹیکل 181 کے تحت پہلی درخواستِ اجراء 3 سال کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔ اگر 3 سال گزر جائیں تو ڈگری زائد المیعاد ہو جاتی ہے اور دفعہ 48 سی پی سی سے کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

2. ڈگری کے نفاذ کے خلاف عذرداری کون دائر کر سکتا ہے؟

مدیون دفعہ 47 اور رول 23-اے کے تحت سیکیورٹی دے کر، جبکہ حقیقی فریق ثالث رول 97 کے تحت آزادانہ ملکیت کے ثبوت کے ساتھ عذرداری دائر کر سکتے ہیں۔

3. کیا عدالتِ اجراء قبضہ دلانے کے لیے پولیس امداد اور تالے توڑنے کا حکم دے سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آرڈر 21 رول 35 اور دفعہ 151 کے تحت مزاحمت کی صورت میں عدالت پولیس نفری اور تالے توڑ کر قبضہ دلانے کا حکم دیتی ہے۔

4. کیا عذرداری کے فیصلے کے خلاف علیحدہ دیوانی دعویٰ دائر ہو سکتا ہے؟

نہیں۔ رول 103 کے تحت علیحدہ دیوانی دعویٰ ممنوع ہے۔ عذرداری کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی یا اپیل ہی قانونی راستہ ہے۔

5. اوورسیز پاکستانی بیرونِ ملک رہتے ہوئے ڈگری کا اجراء کیسے کروا سکتے ہیں؟

تارکینِ وطن سفارت خانے یا نادرا سے تصدیق شدہ مختار نامہ خاص وکیل کے نام بھیج کر دفترِ خارجہ سے تصدیق کے بعد فوری عدالتی کارروائی کروا سکتے ہیں۔

سینئر وکلاء سپریم کورٹ و ہائی کورٹ سے قانونی مشاورت

اپنی دیوانی ڈگری پر عملدرآمد یا غیر قانونی اجراء کے خلاف دفاع کے لیے انٹرنیشنل لاء فرم کے تجربہ کار وکلاء سے رہنمائی حاصل کریں۔ ہماری خدمات سوات، پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دستیاب ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری اراضی و جائیداد کے قانونی تنازعات کی خدمات دیکھیں یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔

قانونی دستبرداری: یہ معلوماتی مقالہ عوامی شعور کے لیے تحریر کیا گیا ہے اور اسے کسی مخصوص کیس میں حتمی قانونی رائے نہ سمجھا جائے۔ کیس کے تفصیلی جائزے کے لیے ہائی کورٹ کے وکیل سے رجوع کریں۔ نظرثانی شدہ از سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، اکتوبر 2026ء۔