دعویٰ تعمیلِ مختص اقرارنامہ بیع جائیداد (Specific Relief Act 1877): عدالتی طریقہ کار، میعاد، حکمِ امتناعی اور سپریم کورٹ کے اہم نظائر

1۔ تعارفی خلاصہ و بنائے دعویٰ: پاکستان میں اقرارنامہ بیع اور دعویٰ تعمیلِ مختص کی نوعیت
پاکستان کے قوانینِ اراضی اور ریئل اسٹیٹ کے قانونی نظام میں غیر منقولہ جائیداد (زرعی اراضی، رہائشی پلاٹس، مکانات اور کمرشل پلازہ جات) کی خرید و فروخت کا آغاز روایتی اور قانونی طور پر ایک باہمی معاہدہ بیع یا اقرارنامہ بیع (Agreement to Sell) کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کے تحت خریدار کی جانب سے فروخت کنندہ کو زرِ بیعانہ (Earnest Money) کے طور پر پیشگی رقم ادا کی جاتی ہے، اور بقیہ زرِ ثمن (Balance Sale Consideration) کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سب رجسٹرار یا اراضی ریکارڈ سینٹر کے روبرو باضابطہ بیع نامہ (رجسٹری) یا انتقالِ بیع کے اندراج کے لیے ایک معینہ مدت یا تاریخ کا تعین کیا جاتا ہے۔
تاہم، مارکیٹ میں جائیداد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے، بدنیتی، یا فروخت کنندہ کی جانب سے جائیداد کسی تیسرے شخص کو زائد قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کے سبب فروخت کنندگان اکثر و بیشتر بیع نامہ تحریر و رجسٹرڈ کروانے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستانی قانون خریدار کو جو سب سے مؤثر اور بنیادی قانونی حق اور چارہ جوئی فراہم کرتا ہے، وہ سپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877ء (Specific Relief Act, 1877) کے تحت مجاز سول عدالت (سینئر سول جج) میں دعویٰ تعمیلِ مختص معاہدہ بیع (Suit for Specific Performance of Contract) کا دائر کرنا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے متعدد تاریخی فیصلوں میں یہ بنیادی نکتہ واضح فرمایا ہے کہ محض اقرارنامہ بیع کسی شخص کو جائیداد کا مالک نہیں بناتا، اور نہ ہی اس سے جائیداد میں کوئی حقِ ملکیت (Proprietary Title) منتقل ہوتا ہے؛ بلکہ یہ صرف ایک شخصی حق (Personal Right) اور معاہداتی ذمہ داری پیدا کرتا ہے جسے عدالت کے ذریعے نافذ کروایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ دعویٰ تعمیلِ مختص کی ڈگری حاصل کرنا کوئی خودکار عمل نہیں، بلکہ یہ ایک صوابدیدی اور منصفانہ دادرسی (Equitable & Discretionary Relief) ہے جس کے لیے مدعی پر قانونِ شہادت آرڈر 1984ء، بقیہ رقم کی عدالتی ادائیگی، اور اپنی مسلسل آمادگی و تیاری (Readiness and Willingness) کو پایۂ ثبوت تک پہنچانا ازحد ضروری ہے۔
اہم قانونی نکتہ و فقہی اصول:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیصلے بنام فرزند علی بنام محمد عارف (2020 SCMR 223) اور حاجی محمد دین کیس (PLD 1994 SC 275) میں واضح اصول وضع کیا ہے کہ دعویٰ تعمیلِ مختص میں عدالت کی صوابدید منصفانہ اصولوں کے تابع ہے۔ مدعی پر لازم ہے کہ وہ صاف ہاتھوں (Clean Hands) کے ساتھ عدالت سے رجوع کرے، معاہدے کی تاریخ سے لے کر ڈگری کے فیصلے تک بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے اپنی مسلسل تیاری ثابت کرے، اور عدالتی حکم کے تحت بقیہ زرِ بیع سرکاری خزانے میں جمع کروائے۔ بصورتِ دیگر دعویٰ خارج کر دیا جائے گا۔
2۔ قانونی ڈھانچہ: سپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877ء کی بنیادی دفعات اور تقاضے
پاکستان میں دعویٰ تعمیلِ مختص کے جملہ امور سپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877ء کے باب دوم میں مندرج دفعات کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل قانونی دفعات کو سمجھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے:
دفعہ 12: غیر منقولہ جائیداد کے معاہدات کی تعمیل کا قانونی مفروضہ
سپیسیفک ریلیف ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت وہ معاہدات عدالتی طور پر نافذ کروائے جا سکتے ہیں جن میں مالی ہرجانہ مناسب داد رسی نہ ہو۔ اس دفعہ کی قانونی وضاحت (Explanation) ایک ٹھوس قانونی مفروضہ قائم کرتی ہے کہ تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ کیا جائے، عدالت یہ فرض کرے گی کہ غیر منقولہ جائیداد کے انتقال کے معاہدے کی خلاف ورزی کا ازالہ محض روپے پیسے یا مالی معاوضے کے ذریعے ممکن نہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جو جائیداد کے خریدار کو تعمیلِ مختص کے ذریعے اصل اراضی حاصل کرنے کا مضبوط حق دیتی ہے۔
دفعہ 19: ہرجانے کی شرط تعمیل کے حق کو ختم نہیں کرتی
اگر اقرارنامہ بیع میں یہ شق درج ہو کہ فروخت کنندہ کے مکر جانے کی صورت میں وہ دوگنا بیعانہ یا مخصوص جرمانہ ادا کرے گا، تو دفعہ 19 کے تحت یہ شق خریدار کو تعمیلِ مختص کے دعوے سے محروم نہیں کرتی۔ عدالت خریدار کی استدعا پر ہرجانے کے بجائے اصل معاہدے کی تعمیل کا حکم دینے کا مکمل قانونی اختیار رکھتی ہے۔
دفعہ 21 و 22: عدالتی صوابدید اور منصفانہ اصول
دفعہ 22 کے تحت تعمیلِ مختص کی ڈگری جاری کرنا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔ تاہم یہ صوابدید من مانی نہیں بلکہ معقول، مدلل اور اعلیٰ عدلیہ کے وضع کردہ اصولوں کی پابند ہے۔ اگر خریدار نے فروخت کنندہ کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہو، یا معاہدے کی تعمیل سے مدعا علیہ پر غیر متوقع اور شدید مشقت یا نقصان واقع ہوتا ہو، یا معاہدے میں جائیداد کی حدود اربعہ اور خسرہ نمبرات مبہم ہوں، تو عدالت تعمیل سے انکار کر کے متبادل داد رسی دے سکتی ہے۔
دفعہ 24: مدعی کی تیاری و آمادگی (Readiness and Willingness)
دفعہ 24(بی) کے تحت کوئی بھی شخص اس وقت تک تعمیلِ مختص کی ڈگری کا حقدار نہیں ہو سکتا جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ وہ معاہدے کی بنیادی شرائط کی تکمیل اور بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ تیار اور آمادہ تھا۔ محض دعویٰ دائر کرنا کافی نہیں، بلکہ اپنے بینک اکاؤنٹ، مالی ذرائع اور طرزِ عمل سے آمادگی کو ثابت کرنا لازمی قانونی شرط ہے۔
دفعہ 27(بی): خریدارِ ثانی کا دفاع (Bona Fide Purchaser for Value Without Notice)
اگر فروخت کنندہ نے اقرارنامہ کے بعد جائیداد کسی تیسرے شخص (خریدارِ ثانی) کو منتقل کر دی ہو، تو اصل خریدار دفعہ 27(بی) کے تحت اس تیسرے شخص کے خلاف بھی ڈگری حاصل کر سکتا ہے۔ خریدارِ ثانی صرف اسی صورت جائیداد بچا سکتا ہے جب وہ عدالت میں تین باتیں ثابت کرے: اول، اس نے جائیداد معاوضے کے عوض خریدی؛ دوم، اس نے نیک نیتی سے خریدی؛ اور سوم، اسے پہلے اقرارنامے کا قطعی کوئی علم یا نوٹس نہیں تھا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس امر کا تمام تر بارِ ثبوت خریدارِ ثانی پر ہوتا ہے۔
3۔ قانونِ شہادت آرڈر 1984ء کے تحت اقرارنامہ بیع کا ثبوت
پاکستانی عدالتوں میں تعمیلِ مختص کے زیادہ تر مقدمات ثبوتی نقائص کی بنا پر خارج ہوتے ہیں۔ چونکہ اقرارنامہ بیع مالیاتی اور آئندہ کی ذمہ داریوں پر مشتمل دستاویز ہے، اس لیے اس کا ثبوت قانونِ شہادت آرڈر 1984ء کے درج ذیل سخت تقاضوں کا محتاج ہے:
آرٹیکل 17(2) اور 79: دو حاشیہ دار گواہان کی شہادت کی لازمی شرط
قانونِ شہادت کے آرٹیکل 17(2) کے تحت مالی ذمہ داری کی دستاویز پر کم از کم دو مرد گواہان، یا ایک مرد اور دو خواتین کے دستخط یا انگوٹھے ہونا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ آرٹیکل 79 یہ حکم دیتا ہے کہ ایسی دستاویز اس وقت تک عدالت میں بطورِ ثبوت نہیں پڑھی جا سکتی جب تک کہ اس پر دستخط کرنے والے دونوں حاشیہ دار گواہان (Marginal Witnesses) کو کٹہرے میں پیش کر کے ان کا بیان قلمبند نہ کروایا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے بنام صغریٰ مائی بنام قادر بخش (PLD 2023 SC 414) میں یہ اصول قطعی طور پر طے کر دیا گیا ہے کہ:
- دونوں حاشیہ دار گواہان کو عدالت میں پیش کرنا ایک لازمی قانونی حکم ہے جس سے انحراف ممکن نہیں۔
- صرف ایک گواہ اور وثیقہ نویس (اسٹامپ فروش) کو پیش کرنا آرٹیکل 79 کے تقاضے کو پورا نہیں کرتا، الا یہ کہ دوسرا گواہ فوت ہو چکا ہو اور اس کا باضابطہ ثبوت دیا جائے۔
- دونوں گواہان کے بیانات میں زرِ بیعانہ کی ادائیگی، تاریخ، یا دستخط کے مقام سے متعلق تضاد مقدمے کو خارج کروانے کے لیے کافی ہے۔
زرِ بیعانہ کی ادائیگی اور وثیقہ نویس کا ریکارڈ
مدعی کو نہ صرف گواہان پیش کرنا ہوتے ہیں بلکہ بیعانہ کی اصل ادائیگی بھی ثابت کرنا ہوتی ہے۔ اگر بیعانہ نقد دیا گیا ہو تو عدالت مدعی سے اس کے انکم ٹیکس گوشوارے اور بینک سٹیٹمنٹ طلب کر سکتی ہے۔ مزید برآں، وثیقہ نویس کو اپنے اصل رجسٹر کے ساتھ طلب کیا جاتا ہے تاکہ اسٹامپ پیپر کی تاریخ اور فروخت کنندہ کے انگوٹھے کے اندراج کی تصدیق ہو سکے۔
4۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی و پابند عدالتی نظائر
دیوانی عدالتوں میں دعویٰ تعمیلِ مختص کی پیروی کرتے وقت سپریم کورٹ کے درج ذیل مستند اور رہنما نظائر کی پابندی لازمی ہے:
فرزند علی بنام محمد عارف (2020 SCMR 223) – بقیہ رقم کی عدالتی ادائیگی کا سنہری اصول
قانونی اصول: سپریم کورٹ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ تعمیلِ مختص کا مدعی عدالت میں اپنی مالی استطاعت ثابت کرنے کا پابند ہے۔ ٹرائل کورٹ پر لازم ہے کہ وہ مدعی کو بقیہ زرِ ثمن عدالت میں جمع کروانے کا حکم جاری کرے۔ اگر مدعی بقیہ رقم جمع کروانے میں ناکام رہے یا تاخیری حربے استعمال کرے، تو اس کا دعویٰ عدم آمادگی کی بنیاد پر فی الفور خارج کر دیا جائے گا۔
مسماۃ صغریٰ مائی بنام قادر بخش (PLD 2023 SC 414) – آرٹیکل 79 کا سخت نفاذ
قانونی اصول: عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اقرارنامہ بیع کو ثابت کرنے کے لیے دونوں حاشیہ دار گواہان کی شہادت ناگزیر ہے۔ ایک گواہ کی شہادت پر انحصار کر کے دی گئی ڈگری قانوناً باطل ہے اور اپیل میں کالعدم قرار دی جائے گی۔
بشیر احمد بنام مسماۃ زبیدہ بیگم (PLD 1984 SC 3) – خریدارِ ثانی پر بارِ ثبوت
قانونی اصول: سپریم کورٹ نے طے کیا کہ جب مدعی کا اولین اقرارنامہ ثابت ہو جائے، تو اس کے بعد جائیداد خریدنے والے شخص پر یہ ثابت کرنے کا بار منتقل ہو جاتا ہے کہ اس نے مکمل چھان بین کی، پٹواری سے تصدیق کی، اور اسے پہلے معاہدے کا قطعی کوئی علم نہیں تھا۔ محض زبانی انکار خریدارِ ثانی کو تحفظ نہیں دیتا۔
میاں محمد بنام میاں غلام حسین (2007 SCMR 1447) – زبانی اقرارنامہ بیع کا بارِ ثبوت
قانونی اصول: عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ زبانی اقرارنامہ بیع (Oral Agreement) پر مبنی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے انتہائی ٹھوس، غیر مبہم اور ناقابلِ تردید شہادت درکار ہوتی ہے۔ تاریخ، وقت، مقام، گواہان اور بیعانہ کے حوالے سے ادنیٰ سا تضاد بھی دعوے کو خارج کرنے کے لیے کافی ہے۔
5۔ عدالتی طریقہ کار کا تفصیلی روڈ میپ: نوٹس سے لے کر عدالتی رجسٹری تک
دعویٰ تعمیلِ مختص دائر کرنے سے لے کر عدالتی عملدرآمد تک ضابطہ دیوانی 1908ء کے تحت درج ذیل دس مراحل طے پاتے ہیں:
مرحلہ 1: قانونی نوٹس اور سب رجسٹرار کے پاس حاضری
طے شدہ تاریخ پر خریدار فروخت کنندہ کو بذریعہ رجسٹری اے ڈی قانونی نوٹس بھجواتا ہے جس میں بقیہ رقم کے ساتھ رجسٹری کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ خریدار کو چاہیے کہ وہ اس دن سب رجسٹرار یا اراضی ریکارڈ سینٹر کے دفتر میں حاضری لگا کر باضابطہ حاضری سرٹیفکیٹ حاصل کرے تاکہ اس کی آمادگی کا سرکاری ثبوت قائم ہو سکے۔
مرحلہ 2: عرضی دعویٰ کی تیاری و دائرگی (سینئر سول جج)
ضابطہ دیوانی کے آرڈر 7 رول 1 کے تحت عرضی دعویٰ تیار کیا جاتا ہے۔ دعوے میں جائیداد کی مکمل حدود اربعہ، خسرہ نمبرات، اور بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے مسلسل آمادگی کا صریح اقرار لکھا جاتا ہے۔ کورٹ فیس ایکٹ کے تحت طے شدہ مالیت پر کورٹ فیس چسپاں کی جاتی ہے۔
مرحلہ 3: حکمِ امتناعی کا حصول (آرڈر 39 رولز 1 و 2 ضابطہ دیوانی)
دعوے کے ساتھ فوری طور پر درخواست حکمِ امتناعی (Stay Order) دائر کی جاتی ہے تاکہ فروخت کنندہ کو دورانِ مقدمہ جائیداد کسی تیسرے شخص کو فروخت کرنے، رہن رکھنے یا تعمیرات کرنے سے روکا جا سکے۔ ابتدائی سماعت پر عدالت عبوری حکمِ امتناعی جاری کرتی ہے۔
مرحلہ 4: بقیہ زرِ بیع کا عدالتی داخلہ
مدعی عدالت میں درخواست دائر کر کے بقیہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی استدعا کرتا ہے۔ عدالت عدالتی چالان جاری کرتی ہے جس کے ذریعے رقم نیشنل بینک یا عدالتی اکاؤنٹ میں جمع کرا کے رسید مثل کا حصہ بنائی جاتی ہے۔
مرحلہ 5: جواب دعویٰ اور تحریری عذرات
مدعا علیہ کو سمن جاری ہوتے ہیں اور وہ 30 دن کے اندر جواب دعویٰ داخل کرتا ہے۔ عموماً دستخطوں سے انکار، جعلی اسٹامپ پیپر، یا بیعانہ عدم وصولی کے عذرات لیے جاتے ہیں۔
مرحلہ 6: وضع تنقیحات (Framing of Issues زیر آرڈر 14)
عدالت فریقین کے بیانات کی روشنی میں تنازعاتی نکات (تنقیحات) وضع کرتی ہے، مثلاً: کیا مدعا علیہ نے اقرارنامہ تحریر کیا؟ کیا مدعی ہمیشہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے تیار تھا؟ اور کیا دعویٰ زائد المیعاد ہے؟
مرحلہ 7: شہادتِ مدعی اور حاشیہ دار گواہان کے بیانات
مدعی خود بیان دیتا ہے اور اصل اقرارنامہ (Ex. P-1) اور بیعانہ رسید پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں حاشیہ دار گواہان اور وثیقہ نویس کٹہرے میں آ کر دستخطوں اور بیعانہ کی ادائیگی کی شہادت دیتے ہیں۔
مرحلہ 8: شہادتِ مدعا علیہ اور تفصیلی جرح
مدعا علیہ اپنی شہادت قلمبند کرواتا ہے۔ مدعی کا وکیل اس پر تفصیلی جرح کرتا ہے۔ اگر دستخطوں کا انکار ہو تو عدالت فرانزک لیب سے فنگر پرنٹ اور دستخطوں کا معائنہ کروا سکتی ہے۔
مرحلہ 9: حتمی بحث اور عدالتی ڈگری
وکلاء کے حتمی دلائل کی سماعت کے بعد سول جج فیصلہ سناتا ہے۔ ڈگری کی صورت میں مدعا علیہ کو 30 سے 60 دن کے اندر رجسٹری کروانے کا حکم دیا جاتا ہے۔
مرحلہ 10: اجراء ڈگری اور عدالتی رجسٹری (آرڈر 21 رول 34 ضابطہ دیوانی)
اگر فروخت کنندہ عدالتی حکم کے باوجود رجسٹری نہ کروائے، تو مدعی درخواستِ اجراء دائر کرتا ہے۔ عدالت لوکل کمشنر مقرر کرتی ہے جو مدعا علیہ کی جگہ خود سب رجسٹرار کے سامنے پیش ہو کر عدالتی بیع نامہ رجسٹرڈ کرواتا ہے۔ بعد ازاں وارنٹِ دخل (Warrant of Possession) کے ذریعے پولیس کی مدد سے جائیداد کا قبضہ ڈگری دار کے حوالے کیا جاتا ہے۔
6۔ میعادِ سماعت کا تعین: آرٹیکل 113 ایکٹ میعادِ سماعت 1908ء
دعویٰ تعمیلِ مختص دائر کرنے کے لیے میعاد ایکٹ 1908ء کا آرٹیکل 113 (Article 113 Limitation Act) لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت دعویٰ دائر کرنے کی مدت تین سال (3 Years) ہے۔ اس آرٹیکل کے دو حصے ہیں:
- معاہدے میں حتمی تاریخ مقرر ہونے کی صورت میں: اگر اقرارنامے میں رجسٹری کی کوئی مخصوص تاریخ (مثلاً 31 دسمبر 2024ء) لکھی ہو، تو تین سال کی میعاد اسی مقررہ تاریخ سے شمار ہوگی۔
- جہاں تاریخ مقرر نہ ہو یا مشروط ہو: اگر اقرارنامے میں کوئی قطعی تاریخ نہ ہو، تو تین سال کی میعاد اس تاریخ سے شروع ہوگی جب خریدار کو فروخت کنندہ کی جانب سے معاہدے کی تعمیل سے انکار کا باضابطہ علم (Notice of Refusal) ہو۔
7۔ موازنہ جاتی جدول: دعویٰ تعمیلِ مختص بمقابلہ دعویٰ واپسی بیعانہ
| قانونی پہلو | دعویٰ تعمیلِ مختص (Specific Performance) | دعویٰ واپسی بیعانہ و ہرجانہ (Refund & Damages) |
|---|---|---|
| بنیادی داد رسی | جائیداد کی عدالتی رجسٹری اور اصل قبضہ کا حصول | ادا شدہ بیعانہ کی واپسی معہ قانونی ہرجانہ و منافع |
| متعلقہ قانون | سپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877ء (دفعات 12، 19، 22) | معاہدہ ایکٹ 1872ء (دفعات 73، 74 و 75) |
| بقیہ رقم کا عدالتی داخلہ | عدالتی حکم کے تحت بقیہ رقم جمع کروانا لازمی ہے | کوئی رقم جمع نہیں کروانی ہوتی، صرف دعویٰ ہوتا ہے |
| حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) | جائیداد کی آگے فروخت روکنے کے لیے اسٹے آرڈر ملتا ہے | اراضی کی منتقلی کے خلاف اسٹے آرڈر عموماً نہیں ملتا |
| میعادِ سماعت | تین سال (آرٹیکل 113 ایکٹ میعادِ سماعت) | تین سال (آرٹیکل 62 یا 115 ایکٹ میعادِ سماعت) |
8۔ اہم عملی قانونی سوالات اور جوابات (FAQ)
1۔ دعویٰ تعمیلِ مختص دائر کرنے کی قانونی میعاد کیا ہے؟
میعاد ایکٹ 1908ء کے آرٹیکل 113 کے تحت میعاد تین سال ہے۔ اگر اقرارنامے میں رجسٹری کی تاریخ لکھی ہو تو اس تاریخ سے تین سال، ورنہ فروخت کنندہ کے انکار کے نوٹس کی تاریخ سے تین سال کا وقت ملتا ہے۔
2۔ اگر اقرارنامے کا ایک گواہ فوت ہو جائے تو کیا مقدمہ جیتا جا سکتا ہے؟
جی ہاں۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 80 کے تحت متوفی گواہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کر کے اس کے دستخطوں کے شناسا گواہ کو طلب کیا جاتا ہے، اور زندہ گواہ و وثیقہ نویس کی شہادت سے دستاویز ثابت کی جاتی ہے۔
3۔ کیا عدالت میں بقیہ رقم جمع کروانا لازمی ہے؟
جی ہاں، سپریم کورٹ کے فیصلے فرزند علی کیس کے مطابق مدعی کو اپنی آمادگی ثابت کرنے کے لیے عدالتی حکم پر بقیہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کروانا لازمی ہے۔
4۔ اگر مالک نے تنازع کے دوران جائیداد کسی تیسرے شخص کو فروخت کر دی ہو؟
ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کی دفعہ 52 (Lis Pendens) کے تحت زیرِ التواء مقدمے کے دوران کی گئی فروخت عدالتی ڈگری کے تابع ہوگی۔ خریدارِ ثانی پر عدالتی ڈگری کا اطلاق ہوگا الا یہ کہ وہ نیک نیتی اور لاعلمی ثابت کرے۔
5۔ کیا زبانی معاہدہ بیع پر بھی دعویٰ ہو سکتا ہے؟
زبانی اقرارنامے پر دعویٰ دائر ہو سکتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے مطابق اس کا بارِ ثبوت انتہائی کڑا ہوتا ہے۔ تاریخ، وقت، قیمت، اور گواہان کو بلا شک و شبہ ثابت نہ کرنے پر دعویٰ خارج ہو جاتا ہے۔
6۔ اگر مالک ڈگری کے بعد بھی رجسٹری نہ کروائے تو کیا طریقہ ہے؟
ضابطہ دیوانی کے آرڈر 21 رول 34 کے تحت عدالت خود لوکل کمشنر مقرر کرتی ہے جو سب رجسٹرار کے پاس جا کر مدعی کے نام بیع نامہ رجسٹرڈ کرواتا ہے، اور عدالتی بیلف کے ذریعے قبضہ دلایا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل لاء فرم چیمبرز: جائیداد کے تنازعات اور تعمیلِ مختص کے ماہر وکلاء
انٹرنیشنل لاء فرم پاکستان بھر کی دیوانی عدالتوں، ڈسٹرکٹ کورٹس، ہائی کورٹس (بشمول پشاور ہائی کورٹ اور دارالقضاء سوات) اور سپریم کورٹ میں اراضی و جائیداد کے تنازعات، دعویٰ تعمیلِ مختص، اور فوری حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) کے مقدمات کی مستند پیروی کرتی ہے۔ ہمارے سینئر پارٹنرز اندرون و بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو عدالتی رجسٹری کے حصول اور جائیداد کے تحفظ کے لیے اعلیٰ پائے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
پریکٹس ایریاز و چیمبرز:
فوری قانونی رابطہ:
کیا آپ کو اقرارنامہ بیع پر عملدرآمد، انکار یا عدالتی حکمِ امتناعی کی فوری ضرورت ہے؟ چیمبرز میں سینئر ایڈووکیٹ سے فوری مشورہ کریں۔
وٹس ایپ پر چیمبرز سے رابطہ کریں (+92 348 0880003)انٹرنیشنل لاء فرم • ایڈووکیٹس سپریم کورٹ و ہائی کورٹ • پاکستان
