45 ایکڑ آبائی اراضی کی تقسیم: سپریم کورٹ آف پاکستان سے سی پی ایل اے کی منظوری
Case Overview & Judicial Outcome
مقدمے کے حقائق اور سپریم کورٹ میں جنگ
45 ایکڑ زرعی و کمرشل آبائی اراضی کے اس مقدمے میں ماتحت عدالتوں نے وراثتی حصص کی تقسیم کے حوالے سے دہائیوں پرانے شواہد کو نظر انداز کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے بھی موکلین کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔
سپریم کورٹ میں پیش رفت:
انٹرنیشنل لاء فرم کے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ رولز کے تحت جامع سول پٹیشن برائے اجازت اپیل (CPLA) تیار کی۔ اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر معزز بینچ کے روبرو ریونیو ریکارڈ، تقسیم کے غیر منصفانہ طریقے اور سپریم کورٹ کے اصولوں کو ثابت کیا۔
عدالتی نتیجہ:
سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے سی پی ایل اے کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کرنے کی اجازت دی، ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا اور موکلین کو ان کا 45 ایکڑ میں پورا شرعی و قانونی حصہ دلوانے کا تاریخی حکم جاری کیا۔
"جب ہائی کورٹ سے بھی امید ختم ہو چکی تھی، انٹرنیشنل لاء فرم کے سپریم کورٹ وکلاء نے اسلام آباد میں بھرپور بحث کر کے ہمیں ہماری آبائی زمین واپس دلوائی۔"
Key Legal Steps
- سی پی ایل اے (CPLA) کی سپریم کورٹ رولز کے مطابق تشکیل
- 60 سالہ ریونیو اور پٹوار ریکارڈ کا فرانزک تجزیہ
- سپریم کورٹ اسلام آباد پرنسپل بینچ کے روبرو تفصیلی بحث
- ہائی کورٹ کے حکم کی معطلی اور موکلین کے وراثتی حق کی مکمل فتح
