غیر قانونی قبضہ ایکٹ 2005ء: اوورسیز پاکستانی کی کروڑوں کی جائیداد واگزار
Case Overview & Judicial Outcome
اوورسیز پاکستانی کا تاریخی ریلیف
موکل پچھلے 20 سالوں سے متحدہ عرب امارات (دبئی) میں مقیم تھے، جن کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی بااثر افراد نے ان کی 12 کنال زمین پر جعلی دیواریں کھڑی کر کے ناجائز قبضہ کر لیا۔
قانونی کارروائی:
موکل نے دبئی سے پاکستان آئے بغیر نادرا ڈیجیٹل مختار نامہ کے ذریعے انٹرنیشنل لاء فرم کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ ہم نے الیگل ڈسپوزیشن ایکٹ 2005 (Illegal Dispossession Act) کے تحت سیشن کورٹ سوات میں براہ راست پٹیشن دائر کی۔ پولیس سے ریکارڈ منگوایا گیا اور عدالت نے واضح پایا کہ قابضین کے پاس کوئی ملکیتی ثبوت نہیں۔
حتمی ڈگری اور واگزاری:
عدالت نے ملزمان کے خلاف وارنٹ جاری کیے، پولیس کو فوری طور پر تمام رکاوٹیں توڑ کر قانونی قبضہ موکل کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور ملزمان پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔
"میں دبئی میں بیٹھا رہا اور ایک دن بھی پاکستان کا سفر نہیں کیا، مگر انٹرنیشنل لاء فرم کی ٹیم نے میری 12 کنال زمین قابضین سے آزاد کروا کر مجھے سونپ دی۔ خدا ان کو جزائے خیر دے۔"
Key Legal Steps
- نادرا ڈیجیٹل پاور آف اٹارنی کی قانونی توثیق و پیشی
- غیر قانونی قبضہ ایکٹ 2005ء کے تحت سیشن کورٹ میں پٹیشن
- پولیس رپورٹ اور ریونیو فرد کا عدالتی تصدیقی عمل
- پولیس نفری کے ذریعے ناجائز قابضین کی بے دخلی اور چابیاں موکل کے سپرد
