وکلاء سپریم کورٹ و پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات) · اوورسیز لیگل ایڈ ڈیسک برائے متحدہ عرب امارات، برطانیہ و خلیجی ممالک
صفحہ اول قانونی بلاگ و مضامین رابطہ و چیمبرز
+92 348 0880003
Civil Law

پاکستان میں مشترکہ جائیداد و زرعی اراضی کی تقسیم: دعویٰ تقسیم اراضی، سول و ریونیو عدالتوں کا دائرہ اختیار، طریقہ تقسیم اور قانونی رہنمائی

iladmin
Pakistani Advocates and Senior Advocates of High Court in black legal gowns presenting land title dispute and partition petition arguments in judicial chambers

۱۔ ابتدائیہ و مشترکہ جائیداد کے تنازعات کی قانونی حقیقت

پاکستان کے قانونی اور معاشرتی نظام میں زمین اور جائیداد کی ملکیت محض ایک معاشی اثاثہ نہیں بلکہ خاندانی وقار، زرعی معیشت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے حقوق کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسلامی قانونِ وراثت (Muslim Personal Law Shariat Application Act, 1962) کے تحت جب کسی جائیداد کے مالک کا انتقال ہوتا ہے، تو اس کے تمام قانونی ورثاء—جن میں بیٹے، بیٹیاں، بیوہ اور والدین شامل ہیں—بیک وقت اور ازخود اس جائیداد کے شریک مالکان بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا (بشمول سوات، مالاکنڈ، پشاور، مردان، ایبٹ آباد اور ہزارہ)، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی، قیمتی رہائشی مکانات اور کمرشل پلازے مشترکہ کھاتہ جات (Joint Khatas) کی صورت میں قائم ہیں۔

مشترکہ کھاتے کا بنیادی قانونی مفہوم یہ ہے کہ ہر شریک کھاتہ دار (Co-sharer) غیر منقسم جائیداد کے ہر ایک انچ، گز اور ذرے کا اپنے موروثی یا قانونی حصے کی حد تک مالک تصور کیا جاتا ہے۔ جب تک اس مشترکہ جائیداد کی باقاعدہ قانونی طور پر پیمائش اور حد بندی کر کے الگ الگ ٹکڑے نہ کر دیے جائیں، کسی بھی ایک شریک مالک کو یہ قانونی حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ جائیداد کے کسی خاص یا قیمتی ترین حصے پر اپنا تنہا اور خصوصی ملکیتی دعویٰ قائم کر لے۔ لیکن عملی زندگی میں طاقتور شریک دار، بااثر رشتہ دار، یا غیر قانونی قابضین جائیداد کے سب سے زرخیز، سڑک کے سامنے والے تجارتی حصوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیتے ہیں، نوعیت اراضی تبدیل کر کے دکانیں یا مکانات تعمیر کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا دیگر کمزور شرکاء اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو محروم کر کے تیسرے فریقین کو زمین فروخت کر دیتے ہیں۔

جب باہمی افہام و تفہیم اور خاندانی جرگے کے تمام راستے مسدود ہو جائیں، تو پاکستانی قانون کے تحت اپنا حق حاصل کرنے کا واحد مؤثر، آئینی اور حتمی عدالتی راستہ دعویٰ تقسیم اراضی (Suit for Partition) دائر کرنا ہے۔ عدالت میں دعویٰ تقسیم دائر کرنا کوئی محض رسمی یا کاغذی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی تکنیکی، پیچیدہ اور اسٹریٹجک قانونی عمل ہے۔ اس عمل میں سب سے بنیادی غلطی جو اکثر سائلین سے سرزد ہوتی ہے وہ سول کورٹ (Civil Court) اور ریونیو کورٹ (Revenue Court / تحصیلدار) کے دائرہ اختیار کا درست تعین نہ کر پانا ہے۔ غلط فورم کے انتخاب کی صورت میں مقدمہ بازی میں دہائیاں ضائع ہو سکتی ہیں اور بالآخر عدالتِ عظمیٰ تک جا کر کیس عدمِ دائرہ اختیار کی بنا پر خارج ہو سکتا ہے۔

یہ جامع قانونی دستاویز اعلیٰ عدالتوں کے سائلین، قانونی مشیروں اور سمندر پار پاکستانیوں کو دعویٰ تقسیم اراضی سے متعلق تمام بنیادی قوانین (Partition Act 1893, CPC 1908, Specific Relief Act 1877, Land Revenue Act 1967)، سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائیکورٹ (دارالقضاء مینگورہ سوات بینچ) کے مستند عدالتی نظائر، طریقہ تقسیم کی تیاری، حکم امتناعی (سٹے آرڈر) کے حصول، اور عدالتی بیلف کے ذریعے موقع پر قبضہ حاصل کرنے کے تمام مراحل کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔